All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

کرپشن کی وبا

لگتا ہے اپنا دبنگ وزیر اعظم بھی اس وبا کے آگے بے بس ہے۔ میں توخیر اسی وقت سمجھ گیا تھا جب ’’ نظریہ‘‘ کے حصول کے لیے ان لوگوں کو پارٹی میں قبول کرنے کا فیصلہ کیا گیا جنہوں نے ہمیشہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں مگر پھر بھی کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ اس کو بھی موقع ملنا چاہیے۔ ضرور ملنا چاہیے اور اب بھی میں اس کا حامی ہوں کہ کسی مائنس ون فارمولہ کو قبول نہ کیا جائے ورنہ کوئی بھی وسیم اکرم پلس بن کر آسکتا ہے۔ محترم وزیر اعظم، کرپشن ایک وائرس ہے جو وبا کی مانند ہماری جڑوں میں بیٹھ گیا ہے، اس کا علاج اس سے نہ کرائیں جو خود اس میں مبتلا ہو۔ آپ کے سامنے ہی ہے جب آپ نے پیٹرول سستا کیا تو وہ نایاب ہو گیا، جب 26 جون کو 25 روپے لیٹر بڑھایا گیا وہیں پیٹرول بازیاب ہو گیا اب آپ کو تو پتا ہے کسی کو بازیاب کرانے کے لیے تاوان تو ادا کرنا پڑتا ہے اب کراتے رہیں آپ تحقیقات۔

پچھلے سال دوائیں مہنگی ہونے کی بھی تو تحقیقات ہوئی تھیں، کیا بنا ؟ کسی کو سزا ہوئی؟ کیا دوائیں سستی ہو گئیں اب آپ چینی اور آٹے کو ہی لے لیں کیا جشن منایا گیا تحقیقاتی کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کا مگر کیا چینی اور آٹا سستا ہو گیا۔ ابھی تو اس ناسور کرپشن وائرس پر ہی بات کر لیتے ہیں ۔ جب بھی اس ملک میں کسی چیز کی، انسداد مہم، چلائی جاتی ہے وہ اسی شدت سے واپس آتی ہے۔ چند سال پہلے کراچی میں انسداد کرپشن محکمہ کا افسر کرپشن کے الزام میں گرفتار ہوا ۔ بعد میں ویسے ہی چھوٹ گیا جیسے اس طرح کے مقدمے میں ہوتا ہے۔ ہر سال انسداد ٹڈی دل اسپرے ان کے حملہ آور ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اگر پہلے ہو جائے گا تو شاید بجٹ کم ہو جائے۔ جس طرح کراچی میں نالوں کی صفائی بارشوں کے قریب کی جاتی ہے تاکہ خوب گندگی جمع ہو جائے۔ میں نے کہا نا یہ وائرس خطرناک ہے۔ 

بڑی امید تھی کہ کرپشن کے خلاف کوئی موثر ویکسین لائی جائے گی مگر جہاں’ توبہ‘ جیسی ویکسین بھی ہر گناہ کرنے کے بعد استعمال کی جاتی ہے اور پھر بھائی لوگ وہی گناہ بار بار کرتے ہیں ایسے معاشرے میں اب بیچارہ وزیر اعظم کرے بھی تو کیا کرے۔ برسوں قبل کسی نے نعرہ لگایا تھا ، ’ پہلے احتساب پھر انتخاب‘۔ لوگ اس نعرہ کے سحر میں آگئے ۔ نہ احتساب ہوا نہ انتخاب بس یہ سوال کیا گیا کہ اگر آپ ملک میں ‘ اسلامی نظام‘ چاہتے ہیں تو میں پانچ سال کے لیے صدر ہوں۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، احتساب خود کرپشن وائرس کا شکار نظر آتا ہے۔ اب اگر نواز شریف دور کے احتساب بیورو سے پرویز مشرف کے قومی احتساب بیورو تک کی داستان بیان کر دی جائے تو سوائے انتقام کے اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کے کچھ نظر نہیں آتا ۔

یہی وجہ ہے کوئی ایک محکمہ بھی پچھلے 40 سالوں میں ایسا نہیں جہاں یہ وائرس نہ پہنچا ہو ۔ میں نے تو اس میں کرپشن کو بڑھتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ اس وائرس کی علامات ظاہر ہونی شروع ہو جائیں تو سمجھیں آپ اشرافیہ کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں بس آپ ثابت قدم رہیں اور اپنے اپنے باس کو خوش رکھیں صدر یا وزیر اعظم نہیں تو وزیر یا مشیر تو بن ہی سکتے ہیں۔ کچھ بات اس وائرس کی علامات کی۔ اس کی ابتدا ہوتی ہے خواب دیکھنے سے، راتوں رات امیر بننے کا خواب۔ ہمیں توبچپن میں سکھایا گیا کہ کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب، پڑھو گے لکھو گے تو بنو گے نواب، یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے۔ پڑھنے لکھنے والے لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں یا کسی راشی اور ان پڑھ افسر کے جونیئر ہیں۔ ایک بار میں نے ایک سابق آئی جی سے پوچھا کہ ایک افسر کتنا کما لیتا ہے۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ،اپنی اپنی صلاحیتوں پر منحصر ہے۔ مطلب یہ کہ کام تو سب کرتے ہیں کچھ خاموشی سے کچھ کسی کی پروا کیے بغیر۔

ایک زمانے میں جب کسی محکمے میں کرپشن کی اسٹوری اخبار میں آتی تھی تو کم ازکم کچھ ایکشن ہو جاتا تھا اب تو بات ایک ’ٹکر‘ سے آگے نہیں جاتی۔ میں نے رپورٹنگ کے زمانے میں ایسے افسر بھی دیکھے ہیں جو کہتے تھے کہ انہوں نے کبھی کرپشن کے پیسے کو ہاتھ نہیں لگایا بس ٹیبل کی دراز کھلی رکھتے تھے کوئی اپنی خوشی سے دے گیا تو شام کو گلوز پہن کر پیسے نکال لیتے تھے۔ آج تو گلوز بھی ہیں اور ماسک بھی ۔ اگر غلطی سے رشوت کے پیسے کو ہاتھ لگ جائے تو سینی ٹائزر استعمال کر لیں یا صابن سے ہاتھ دھو لیں۔ اس وائرس کی علامات کمزور طبقے پر جلد ظاہر ہو جاتی ہیں اس لیے وہ پکڑے بھی جاتے ہیں ورنہ تو کیا کیا نہیں ہوا ہے اس ملک میں۔ ادھر ہاتھ ڈالو تو وہ کہتے ہیں ’ہمارا اپنا احتساب کا نظام ہے‘ ادھر دیکھو تو جواب آتا ہے، ہم خود اپنے لوگوں کا احتساب کرتے ہیں اب رہ جاتا ہے سیاست دان یا کچھ بیورو کریٹ مگر اس طبقے نے بھی سیکھ کر نہیں دیا، ایک زمانے میں وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا ہو یا اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ہو ، میلہ مویشیاں سج جاتا تھا۔ چھانگا مانگا سے مری ریسٹ ہاؤس تک ، مڈنائٹ جیکال سے لے کر مہران بینک اور اصغر خان کیس تک یہی ہوتا رہا ہے۔

زیادہ دور نہ جائیں 2018 سے پہلے بلوچستان میں آنے والی تبدیلی ہو یا چیئرمین سینٹ کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کی ناکامی یہی کاروبار آج بھی جاری وساری ہے۔ وزیر اعظم صاحب آپ نے کہا تھا اور درست کہا تھا کہ آپ ایم این اے کے ترقیاتی فنڈز کیخلاف ہیں اور اسے کرپشن کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ پھر اب یہ یقین دہانیاں کیسی ناراض اراکین کو منانے کی خاطر کہاں گیا نظریہ اور اصول۔

ہم اصولوں کو بھی بازار میں لے آئے ہیں
اور پتا پوچھتے پھرتے ہیں خریداروں کا

مافیا کیخلاف جنگ مافیا کے کارندوں کو اپنے ساتھ ملا کر نہ لڑی جاسکتی ہے نہ ہی جیتی جاسکتی ہے۔ آپ نے یہ بھی درست کہا کہ پی پی پی اس لیے تباہ ہوئی کیونکہ وہ اپنے نظریہ سے ہٹ گئی اور ہمیں کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی اگر ہم اپنے نظریہ پر ڈٹے رہیں اب ذرا خود غور کریں کہ آپ کی پارٹی اس نظریہ پر واقعی کھڑی ہے یا وہ بھی کہیں نہ کہیں وائرس کا شکار ہو گئی ہے۔ اصول قربانی مانگتے ہیں چاہے وہ مال کی ہو یا اقتدار کی۔ لوگ تو اصولوں کی خاطر جان تک دے دیتے ہیں۔

مظہر عباس

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments