حکومتِ پاکستان نے آئسولیشن والے مریضوں کے لیے گائیڈ لائنز مرتب کی ہیں، جس کے مطابق آئیسولیشن ختم کرنے کے لیے تین طریقے کار وضع کیے گئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں علامتوں کی بنیاد پر : جن مریضوں کو علامتیں ہوں، انھیں کووڈ کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پہلے 10 دن مکمل آیسولیشن میں گزارنے ہوں گے - دس دن مکمل ہونے کے بعد انھیں وہ تمام دوائیں بند کرنی ہوں گی جو وہ کرونا کے لیے استعمال کر رہے تھے، تمام تر دوائیں بند کر کے انھیں مذید تین دن آئسولیشن میں گزارنے ہوں گے اور ان تین دن کے دوران اگر کرونا والی تمام علامتیں جیسے بخار، نزلہ، زکام ، کھانسی ظاہر نہ ہوں تو ایسے مریض کو کرونا فری مانا جائے گا -
ٹائم بیسڈ اسٹریٹجی : یہ پروٹوکول ان افراد کے لیے ہے جن کا کرونا ٹیسٹ مثبت ہو مگر انھیں کوئی علامتیں نہ ہوں - ایسے تمام مریضوں کو ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد دس دن تک خود کو آئسولیٹ رکھنا ہو گا - اور ان دس دنوں کے دوران انھیں اگر کوئی علامتیں ظاہر نہ ہوں تو انھی کرونا فری مانا جائے گا. مندرجہ بالا کیٹگری والے لوگوں کو عام حالات میں دوبارہ کووڈ کا پی سی آر کروانے کی ضرورت نہیں ہے
ٹیسٹ کی بنیاد پر : مندرجہ ذیل مریضوں کا آئسولیشن میں 10 دن مکمل کرنے کے بعد دوبارہ سے کووڈ کا ٹیسٹ کروانا لازمی ہے 1- جو مریض امیونو کمپرومائزد ہوں - ان میں وہ لوگ شامل ہیں جنھیں کرونا کے علاوہ اور بیماریاں ہوں اور بہت زیادہ بوڑھے لوگ 2- جیل کے قیدی، مدرسے میں رہنے والے اور ڈورمینٹری میں رہنے والے 3-وہ ہیلتھ کئیر ورکر جو امیون کمپرومائزد لوگوں کی دیکھ بھال کے دوران کرونا کا شکار ہوئے ہوں -
نوٹ : دوبارہ ٹیسٹ کا طریقے کار یہ ہے کہ مریضوں کا چوبیس گھنٹے کے وقفے کے ساتھ دو دفعہ ناک سے سیمپل لیا جائے گا اور کرونا کا پی سی آر PCR ٹیسٹ کیا جائے گا - اگر دونوں ٹیسٹ نیگیٹیو آتے ہیں تب ایسے مریضوں کو کرونا فری سمجھا جائے گا-
دونوں میں سے اگر دونوں یا ایک ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو 5 دن کے وقفے سے دوبارہ پی سی آر کروایا جائے گا - کرونا سے صحت یاب ہوجانے والے مریضوں سے گزارش ہے کرونا کی احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے رہیں اور دو ہفتے گزر جانے کے بعد اپنا پلازمہ عطیہ ضرور کریں کیونکہ بہت سارے لوگ اسپتالوں میں موت و زندگی کی کشمکش میں ہیں، آپ کا پلازمہ شاید ان کی زندگی بچا لے اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
0 Comments