All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

بھاشا ڈیم کی فوری تعمیر ناگزیر ہے

برسوں سے مسلسل تاخیر کے شکار دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے فوری آغاز کا حکومتی فیصلہ روز بروز بڑھتی ہوئی پانی کی قلت کے تناظر میں بلاشبہ ایسا اقدام ہے جس میں مزید لیت و لعل کا یہ ملک متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پانی کے تحفظ اور توانائی کی ضروریات کی تکمیل کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا جو یقینی طور پر وقت کے تقاضے کے عین مطابق ہے۔ پاکستان میں پانی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قلت کا اندازہ آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر عالمی اداروں کی ان رپورٹوں سے لگایا جا سکتا ہے جن کی رُو سے 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے۔ ہمیں ہر سال تقریباً 145 ملین ایکڑ فِٹ بارش کا پانی دستیاب ہوتا ہے لیکن ذخیرہ کرنے کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے 14 ملین ایکڑ فٹ سے بھی کم پانی بچتا ہے۔ 

ارسا کے مطابق پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہو جاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کے لیے منگلا ڈیم کے حجم جتنے تین مزید ڈیموں کی ضرورت ہے۔ پانی کے قومی تحفظ کی پالیسی اور ڈیموں کی تعمیر سے متعلق اس اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے آباد کاری اور مالیاتی وسائل کی فراہمی کے لیے تفصیلی روڈ میپ سمیت تمام مسائل حل کر لیے گئے ہیں اور یہ منصوبہ اب عملی کام کے آغاز کے لیے تیار ہے۔ اجلاس میں داسو ڈیم‘ نولانگ ڈیم‘ مہمند ڈیم اور سندھ بیراج پر تعمیراتی کام کی پیشرفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات اور سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ ڈیم کی تعمیر سے 16 ہزار 500 ملازمتیں اور 4 ہزار 500 میگاواٹ پن بجلی کی تیاری کے علاوہ 12 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی بھی سیراب ہو گی جبکہ تربیلا ڈیم کی زندگی 35 برس بڑھ جائے گی۔ 

وزیراعظم نے ڈیموں کی تعمیر سے متعلق ملازمتوں میں مقامی آبادی کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے جو یقیناً خوش آئند ہے اور کئی حوالوں سے مثبت نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈیموں کی تعمیر متعلقہ صنعتوں کی ترقی اور علاقے کی خوشحالی کا ذریعہ بنے گی، اس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو زندگی کی بہتر سہولتیں میسر آئیں گی اور یہ بجائے خود ایک بڑی کامیابی ہو گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے منصوبے کے حصے کے طور پر علاقے کی سماجی ترقی پر 78 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ یہ ڈیم سیلاب کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہو گا اور ہر سال سیلاب سے ہونے والے اربوں روپے کے نقصان سے بچائے گا۔ وزیراعظم نے حال ہی میں شروع ہونے والے مہمند ڈیم کے کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ داسو جیسے اہم منصوبے پر بھی جلد کام شروع کیا جائے۔ 

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں نولانگ ڈیم کے لیے فنڈز کا انتظام ہو گیا ہے اور اس پر اگلے سال کام شروع ہو جائے گا۔ بھاشا ڈیم کے حوالے سے یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس کے لیے مختص زمین خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے درمیان واقع ہے اوربھارت گلگت بلتستان کو متنازع علاقہ قرار دیتا ہے جس کی بناء پر عالمی مالیاتی ادارے اس ڈیم کے لیے مالی تعاون سے گریز کرتے رہے ہیں۔ یہ منصوبہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پیش کیا گیا تھا لیکن متعدد بار تعمیر کا افتتاح ہونے کے باوجود فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے مزید پیش رفت نہ ہو سکی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈیم کی تعمیر کی لاگت جس کا تخمینہ ابتداء میں 12 ارب ڈالر تھا کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ امید ہے کہ موجودہ حکومت نے اس پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے ڈیم کی تعمیر کی حکمت ِعملی وضع کی ہو گی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments