All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

کورونا وائرس بمقابلہ بے روزگاری...

اب یہ لڑائی کورونا وائرس اور بےروزگاری کی بڑی لہر کے درمیان ہے اور دنیا کے دوسرے کسی بھی ملک کی طرح پاکستان کو بھی آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اس بڑے چیلنج کا سامنا ہو گا۔ اس کیلئے ایک منظم پالیسی اور واضح سمت کی ضرورت ہے ہمیں جس کی ضرورت ہے وہ سماجی فاصلہ ہے نہ کہ سیاسی فاصلہ۔ سیاسی فاصلہ اس چیلنج سےنمٹنے میں خطرناک ہو سکتا ہے۔ پاکستان کواضافی بوجھ کا سامنا ہو گا کیونکہ بیرونِ ملک رہنے والے تقریباً 50 ہزار پاکستانیوں کو بےروزگاری کا سامنا ہے، ان میں سے زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں ہیں ان کی واپسی کا امکان ہے اور وہ نئے مواقع تلاش کریں گے۔ وائرس کاعروج ابھی آنا ہے اور وہ 16 اپریل سے 30 اپریل کے درمیان متوقع ہے، وزیراعظم عمران خان کی حکومت صوبائی حکومتوں کےساتھ مل کر وائرس اور بھوک کے ساتھ نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مخصوص شعبوں پر پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے جسےآئندہ آنے والے چیلنجز کی روشنی میں دیکھنا چاہیئے، وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے بدھ کو سخت لاک ڈائون کیلئے اقدامات اور لیبر یا نوکری پیشہ ملازمین کیلئے پِک اینڈ ڈراپ سے متعلق ایس اوپیز کا اعلان کیا۔ ان شعبوں میں کنسٹرکشن اوراس سے متعلقہ صنعتیں اورایکسپورٹ سیکٹر شامل ہے، جن پر انھوں نے اور دیگر رہنمائوں نے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کی میٹنگ میں اتفاق کیا تھا۔ اگر دنیا بھر میں مہلک وائرس سےایک لاکھ 10 ہزار لوگ پہلے ہی مر چکے ہیں تو ایک کروڑ لوگ نوکریوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ اس تعداد میں اضافہ ہو گا اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ کہاں رکے گا لیکن یقیناً سال 2020 کے پہلے حصے میں گزشتہ 100 سال کے دوران بدترین بحران کا سامنا ہے۔ پاکستان کے بےروزگاری کے چیلنج کا انحصارہماری ایکسپورٹ اور حکومت کا اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے اپنے فیصلے پر ہے۔

اگر ایک جانب حکومت نےمختلف شعبوں کیلئے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے لیکن دوسری جانب اگریہ نجی شعبے کو بڑے پیمانے پر ملازمین کو نکالنے میں ناکام رہی تو ریلیف بے معنی ہو گا۔ دوئم، ٹرانسپورٹ کے بغیر عام مزدور کس طرح سے اپنی کام کی جگہ پر پہنچے گا۔ اس طرح اس میں کافی زیادہ خطرہ ہے کہ  اگر حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ کو اجازت دی تو یہ وائرس پھیلانے کا سب سے زیادہ خطرناک ذریعہ ہو گا۔ لیکن مرحلہ وار میٹرو یا آن لائن پرائیوٹ بس سروس کو کچھ سخت ایس اوپیز کےساتھ آنے والے دنوں میں اجازت دی جا سکتی ہے۔ لیکن ریل آپریشن کو کچھ وقت لگے گا اسی طرح کچھ دیگر شعبوں کو بھی وقت لگے گا۔

جب منگل کو پاکستان میں 100ویں ہلاکت ہوئی اور پاکستان 40 ایسے ملکوں میں شامل ہو گیا جہاں 100 ہلاکتیں ہو چکی ہیں تو تاحال یہ خوش قسمت ہے کہ یہ کئی ملکوں سے پیچھے ہے جہاں روزانہ کی ہلاکتوں کی تعداد 3 سو سے 5 سو یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ حتٰی کہ اگرہم ٹیسٹنگ میں کافی پیچھے ہیں تو بھی یہ ایک کامیابی ہے اور بہتر ہو سکتا تھا اگر ہم لاک ڈائون کا فیصلہ 26 فروری کو پہلی موت کے فوراً بعد لے لیتے۔ کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب وزیراعظم عمران خان چاروں وزرائےاعلیٰ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو اعتماد میں لینے کے بعد لاک ڈائون میں دوہفتوں کیلئےتوسیع کی تو انھوں نے بےروزگاری اور بھوک کے چیلنج سےنمٹنے کیلئے اقدامات کا اعلان بھی کیا۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نئے احساس پروگرام تک حکومت مسئلے سے نمٹی اور چار میں سے پہلا پیکج 12 ہزار روپے رجسٹرڈ غریب لوگوں کو دیئے۔ وزیراعظم عمران خان نے منگل کو کچھ شعبوں کیلئے لاک ڈائون نرم کر کے ایک دلیرانہ فیصلہ لیا تاکہ معاشی سرگرمیوں کو محدود طریقے سے جاری رکھا جائے لیکن یقیناً اس میں کافی خطرات شامل ہیں مہلک وائرس کا عروج ابھی آنا ہے اور پیشگویاں یہ ہے کہ یہ 15 اپریل سے 30 اپریل تک ہو گا۔ وزیراعظم کے فیصلے کے بارے میں دو رائے ہو سکتی ہیں لیکن اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایس اوپیز کو نافذ کرنے میں کامیاب ہو گئیں تو پاکستان چند ملکوں میں کامیاب ہو جائے گا جنھوں نے لاک ڈائون میں نرمی کی اور حالات کو نارمل کیا۔

 تجزیہ مظہرعباس 

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments