All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

تیل کی گرتی قیمتیں پاکستان کیلئے نعمت ِ غیرمترقبہ؟ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

کورونا وائرس کے دنیا بھر میں پھیلتے چلے جانے کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان نظر آہی رہا تھا کہ اچانک ’’تیل کی قیمتوں کی جنگ‘‘ شروع ہو گئی۔ ہوا یوں کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے اہم ترین ملک سعودی عرب نے اوپیک کے اجلاس میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے رحجان سے نمٹنے کے لئے یہ تجویز پیش کی تھی کہ تیل کی فراہمی میں کمی کر دینی چاہئے جسے روس نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے جواب میں سعودی عرب نے ایک حکمتِ عملی کے تحت اچانک تیل کی فراہمی بڑھانے کا اعلان کر دیا۔ اس غیر متوقع فیصلے سے عالمی مارکیٹوں میں ایک بھونچال آگیا اور متعدد ممالک کی اسٹاک مارکیٹیں کریش کر گئیں، کچھ ملکوں کے مرکزی بینکوں نے شرح سود میں کمی کر دی جبکہ سونے کے نرخوں میں اضافہ ہو گیا۔ 

امید ہے تمام متعلقہ فریقوں میں جلد ہی تیل کی قیمتوں کے نرخوں میں استحکام لانے کے معاملے پر اتفاق ہو جائے گا چنانچہ تیل کی قیمتوں کی جنگ کی وجہ سے تیل کے نرخوں میں جو کمی ہوئی تھی اس کا بڑا حصہ واپس آجائے گا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم سطح پر رہنے سے یقیناً پاکستان کی تیل کی درآمدات میں زبردست کمی ہو گی جبکہ شرح سود و پیٹرلیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی سے مہنگائی میں بھی کمی ہو گی۔ دوسری طرف پاکستانی معیشت پر کچھ منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں مثلاً 28 فروری 2020 کو اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کا مجوعی حجم صرف 12.75 ارب ڈالر تھا جس میں چار دوست ملکوں کے متعین مدت کے لئے جمع کرائے گئے ڈپازٹس بھی شامل ہیں جو جلد واپس چلے جائیں گے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو پڑنے سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

اب یہ ازحد ضروری ہے کہ حکومت تجارتی بنیادوں پر مناسب شرح سود پر بیرونی قرضے حاصل کرے تاکہ یہ خطرہ ٹل سکے۔ مشرقِ وسطیٰ سے تقریباً 12 ارب ڈالر کی ترسیلات موجودہ مالی سال میں متوقع ہیں۔ تیل کی قیمتیں کم سطح پر برقرار رہنے سے نہ صرف ترسیلات میں کمی ہو سکتی ہے بلکہ ان ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی تارکین وطن میں سے کچھ کو پاکستان واپس آنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستانی معیشت کو متعدد خطرات اور چیلنجز، بدستور برقرار ہیں۔ موجودہ مالی سال میں معیشت کی شرح نمو انتہائی سست جبکہ ٹیکسوں کی وصولی ہدف سے تقریباً 900 ارب روپے کم رہے گی جبکہ ترقیاتی اخراجات میں زبردست کٹوتی اور جی ڈی پی کے تناسب سے تعلیم و صحت کی مد میں تحریک انصاف کے منشور سے صریحاً انحراف کرتے ہوئے انتہائی کم رقوم خرچ کرنے کے باوجود بجٹ خسارہ قابو سے باہر رہے گا۔

زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ حد سے کم ہیں جبکہ ملکی و بیرونی قرضوں کا حجم انتہائی تیز رفتاری سے بڑھا ہے۔ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ 1900 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ حکومتی شعبوں کے اداروں کے نقصانات کا حجم تقریباً 2100، ارب روپے ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری مالی سال 2018 کے مقابلے میں گری ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبے میں زبردست سرمایہ کاری کے بغیر پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہی نہیں ہے۔ مندرجہ بالا حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستانی معیشت کو مستقل بنیادوں پر سنبھالا دینے اور عوام کی حالت بہتر بنانے کے لئے مختلف شعبوں خصوصاً ٹیکسوں اور توانائی کے شعبوں میں تحریک انصاف کے 2013 اور 2018 کے منشور کے مطابق بنیادی نوعیت کی اصلاحات کرنا ہونگی۔ 

اب سے تقریباً 15 برس قبل گورنر اسٹیٹ بینک نے جو آج بھی حکومت کا حصہ ہیں کہا تھا کہ اگر ٹیکس کی چوری روک دی جائے تو جنرل سیلز کی شرح کم کر کے 5 فیصد کرنے اور ہر قسم کے سرچارج مثلاً پیٹرولیم لیوی صفر کرنے کے باوجود ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب بڑھے گا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں اس وقت پیٹرولیم مصنوعات میں 35 روپے فی لیٹر کمی کرنا ممکن ہے۔ یہ امر افسوناک ہے کہ اس بات پر غور ہو رہا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا صرف ایک حصہ عوام کو منتقل کیا جائے اور بقیہ حصے ٹیکس کی چوری اور بجلی کی چوری وغیرہ کے نقصانات کو کم کرنے کیلئے استعمال کیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ایک المیہ ہو گا۔ یہ بات نوٹ کرنا اہم ہے کہ چند ماہ پہلے تک ملک میں ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیڑولیم لیوی 8 روپے لیٹر اور پیٹرول پر 10 روپے لیٹر تھی۔ 

اس لیوی کو بڑھا کر اب بالترتیب 25 روپے 5 پیسے اور 19 اور روپے 75 پیسے کر دیا گیا ہے۔ جنوری 2019 میں ان مصنوعات پر جنرل سیلز کی شرح 0.5 فیصد، 2 فیصد، 8 فیصد اور 13 فیصد تھی۔ اسے بڑھا کر 17 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا پورا فائدہ ٹیکسوں کے منصفانہ نظام کے تحت عوام کو منتقل نہیں کیا گیا تو عوام کو ملنے والا متوقع ریلیف نہ صرف عارضی ہو گا بلکہ حقیقی معنوں میں کوئی ریلیف نہیں ہو گا۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کی موجودہ عارضی سطح پاکستان کے لئے نعمت ِ غیرمترقبہ صرف اس وقت ثابت ہو گی جب وفاق اور صوبے پارٹی منشور کے مطابق ہر قسم کی آمدنی پر موثر طور پر ٹیکس نافذ اور وصول کریں اور ایسے ناجائز ملکی اثاثوں پر مروجہ قوانین کے تحت ٹیکس وصول کریں جو 2019 کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں ظاہر نہیں کئے گئے تھے اگر ایسا ہوا تو معیشت میں پائیدار بہتری آئے گی، غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور ناخواندگی میں کمی آئے گی۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستانی معیشت مشکلات کا شکار رہے گی، سی پیک کو گیم چینجز نہیں بنایا جا سکے گا اور پاکستان کو ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے سامنے دست سوال دراز کرنا پڑے گا۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

بشکریہ روزنامہ جنگ


Post a Comment

0 Comments