نعمت اللہ خان یکم اکتوبر 1930 کو بھارتی شہر اجمیر شریف کے علاقے شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے اور وہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ جس کے بعد وہ ہجرت کر کے پاکستان آگئے جہاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کیا جبکہ جامعہ کراچی سے فارسی لٹریچر میں ماسٹر کیا اور وہی سے صحافت میں ڈپلومہ اور ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا، جس کے بعد انہوں نے انکم ٹیکس کے وکیل کے طور پر وکالت کا بھی آغاز کیا۔ زمانہ طالب علمی میں آپ نے تحریک پاکستان میں ایک فعال کارکن کے طور پر کام کیا، آپ نے شاہجہاں پور کے مسلم رکن قانون ساز اسمبلی کے ہمراہ قائد اعظم کی سربراہی میں ہونے والی "آل انڈیا مسلم لیجسلیٹرز کانفرنس" میں شرکت کی، اس کے علاوہ 1946 سے قیام پاکستان تک آپ مسلم لیگ نیشنل گارڈ ضلع اجمیر کے منتخب صدر رہے۔
بعد ازاں نعمت اللہ خان نے 1957 میں جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اور انہیں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے جماعت کی رکنیت کا حلف خانہ کعبہ میں اٹھایا۔ آپ جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر بھی رہے، آپ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1988 تک آپ قائد حزب اختلاف بھی رہے۔ نعمت اللہ خان کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ وہ 2001 میں متعارف کرائے جانے والے ضلعی حکومتوں کے نظام کے بعد کراچی کے پہلے ناظم منتخب ہوئے۔ آپ 2001 سے 2005 تک 4 سال کے لیے کراچی کے ناظم رہے، پیشہ کے اعتبار سے آپ وکیل تھے جبکہ آپ نے جماعت اسلامی کی فلاحی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن کی سربراہی بھی کی۔ شاہ فیصل کالونی سے کورنگی انڈسٹریل ایریا تک ملیر ندی پر فلائی اوور جیسا منصوبہ ان کے دورِ نظامت میں تعمیر کیا گیا۔ نعمت اللّٰہ خان ایڈووکیٹ مرحوم نے بحیثیت چیئرمین الخدمت فاؤنڈیشن صحرائے تھر کے رہنے والوں کو پانی اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لیے کئی منصوبے شروع کیے۔
0 Comments