برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کے لیے پاکستان کا سفر کرنے کے لیے سفری ہدایات میں ترمیم کر دی ہیں جس پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس سے پاکستان میں سیاحت اور سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گی۔ ایسا ان کے مطابق پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں برٹش ہائی کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان میں امن و امان کی بہتری کی جانب گامزن صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے آج برطانیہ نے پاکستان کے لیے اپنی سفری ہدایات (یوکے ٹریول ایڈوائس) میں تبدیلیاں جاری کی ہیں۔‘
یہ برطانیہ کی جانب سے 2015 کے بعد سفری ہدایات میں کی جانے والی پہلی واضح تبدیلی ہے۔ سفری ہدایات میں تبدیلی کے بعد اب برطانوی شہریوں کے لیے پاکستان کے شمالی علاقہ جات بشمول کیلاش اور بموریت جیسے علاقوں کو بذریعہ سڑک سفر کرنے کو محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کے لیے برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچین ٹرنر نے اس حوالے سے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ ’میں نے دسمبر 2019 میں پاکستان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سفری ہدایات کے تجزیے کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران امن و امان کی صورتحال میں بہتری حکومت پاکستان کی ان تھک کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ’مجھے خوشی ہے کہ برطانوی شہری اب پاکستان میں خوبصورت سیاحتی مقامات سے زیادہ لطف اندوز ہوسکیں گے۔‘ اس سے قبل جون 2019 میں برٹش ایئرویز نے بھی پاکستان کے لیے اپنی پروازوں کا دوبارہ سے آغاز کر دیا تھا جبکہ گذشتہ سال اکتوبر میں ڈیوک اینڈ ڈچز آف کیمبرج بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔
0 Comments