چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ریلوے پاکستان کا کرپٹ ترین ادارہ ہے، ریلوے میں کوئی بھی چیزدرست انداز میں نہیں چل رہی، ہر روز حکومتیں گرانے اور بنانے والوں سے اپنی وزارت نہیں چل رہی، پورا محکمہ سیاست میں پڑا ہے، مسافر اور مال گاڑیاں چل رہی ہیں نہ ریلوے اسٹیشن ٹھیک ہیں، نہ ٹریک نہ ہی سگنل، ریل کا ہر مسافر خطرے میں سفر کر رہا ہے۔ دنیا بلٹ ٹرین چلا رہی ہے ہم اٹھارویں صدی کی ریل، چولہے میں پھینک دیں اپنی انکوائری، آپ کا سارا ریکارڈ مینوئل ہے، اس کا مطلب ہے کہ ایک لاکھ کی ریکوری میں 25 ہزار ظاہر کیا جاتا ہے جبکہ 75 ہزار غائب ہو جاتا ہے۔ جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریلوے کو اربوں روپے کاخسارہ ہو رہا ہے، آڈٹ رپورٹ نے واضح کر دیا ریلوے کا نظام چل ہی نہیں رہا۔
دوران سماعت سپریم کورٹ نے ریلوے سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں آنیوالے حقائق پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، سی ای او ریلوے اور سیکرٹری ریلوے کو طلب کر لیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریلوے کو اربوں روپے کاخسارہ ہو رہا ہے آڈٹ رپورٹ نے واضح کر دیا ریلوے کا نظام چل ہی نہیں رہا۔ چیف جسٹس نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ دنیا بلٹ ٹرین چلا کر مزید آگے جارہی ہے، جسکو ریلوے وزارت درکار ہے اس کو خود پہلے ریلوے میں سفر کرنا ہوتا ہے، ریلوے کا پورا محکمہ سیاست میں پڑا ہوا ہے، روز حکومت گرا رہا ہے اور بنا رہا ہے، ان کا کام نہیں وزارت سنبھالنا اور نہ ہی وہ وزارت سنبھال رہا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ محکمہ ریلوے نہ مسافر ٹرین چلا پا رہا ہے نہ ہی مال گاڑی، ریلوے پر سفر کرنیوالا ہر فرد خطرے میں سفر کرتا ہے، نہ ریلوے اسٹیشن اسٹیشنز ہیں نہ ٹریک اور نہ ہی سنگل سسٹم۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے سے کرپٹ پاکستان میں کوئی ادارہ نہیں، ریلوے میں کوئی بھی چیز درست انداز میں نہیں چل رہی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پاکستان میں اٹھارویں صدی کی ریل چلا رہے ہیں، ریلوے میں جو آگ لگی تھی اس معاملے کا کیا ہوا۔ وکیل ریلوے نے کہا کہ معاملے پر انکوائری ہوئی ہے اور 2 آدمیوں کیخلاف کارروائی ہوئی ہے، چولہے میں پھینک دیں اپنی انکوائری۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے سی ای او عدالت پیش کیوں نہیں ہوئے۔ وکیل ریلوے نے کہا کہ سابق سی ای او کو نوٹس گیا ہے موجودہ کو نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سابق سی ای او کو نوٹس گیا ہے اسکے باوجود اہم کیس تھا موجودہ سی ای او کو پیش ہونا چاہیے تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بلوا لیں اپنے سی ای او کو، وہ کہاں ہیں؟۔
0 Comments