All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

تاجروں اور ایف بی آر کی عارضی جنگ بندی

پی ٹی آئی حکومت کے پہلے وزیر خزانہ اسد عمر کے جاتے ہی وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف سے قرضے کی بات چیت شروع کی اور پھر آئی ایم ایف نے اپنی کڑی شرائط پر قسطوں میں قرضے دینے کی ہامی بھری جو ماضی سے زیادہ سخت تھیں۔ مثلاً اس میں پی ٹی آئی حکومت کو صنعتکاروں، تاجروں اور ہر طبقے کے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانا بجلی، گیس، پیٹرول، ڈیزل اور تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرنا شامل تھا۔ باوجود دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتیں عالمی سطح پر گر رہی تھیں۔ پھر راتوں رات بغیر وزیراعظم کی اجازت کے نئے مشیروں نے روپے کی قدر اتنی گرا دی کہ عوام کی چیخیں نکل گئیں۔

اس مہنگائی کے بعد ایف بی آر کے نئے چیئرمین شبر زیدی نے بھی تاجروں، صنعتکاروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی نئی حکمت عملی ترتیب دی، 6 ماہ میں تاجروں اور صنعتکاروں نے مل کر ایف بی آر سے میٹنگیں کیں مگر معاملات بگڑتے گئے۔ ایک نئی شق شناختی کارڈ 50 ہزار کی خریداری پر لازمی قرار دیا گیا تاکہ جو ادارے ابھی تک ٹیکس نہیں دیتے، اُن کی نشاندہی ہو سکے۔ اس طرح فکس ٹیکس لگانے کی بھی کوشش کی گئی مگر معاملات بگڑتے بگڑتے ہڑتال کی نوبت آگئی۔

پورا ملک تاجروں، دکانداروں کی ہڑتال کی زد میں آگیا تو دہرا نقصان ہوا۔ بقول تاجروں کی ایسوسی ایشن 60 ،70 ارب 2 دن کی ہڑتال کی نذر ہو گئے۔ اسی طرح حکومت کے بھی کچھ ہاتھ نہیں آیا تو پھر ایف بی آر اور تاجروں کے درمیان فیصلے ہوئے اور معاملہ پھر 3 ماہ کے لئے ٹل گیا اور جنوری تک شناختی کارڈ کی شرط موخر کر دی گئی۔ یہ ایسی شق ہے جس کی دنیا بھر میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہاں میں پڑوسی ملک بھارت کی حالیہ وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت کی 126 کروڑ کی آبادی میں 37 ملین یعنی 3 کروڑ 70 لاکھ ٹیکس افراد رجسٹرڈ ہیں یعنی صرف 3 فیصد افراد ٹیکس نیٹ میں آتے ہیں جو بہت تشویش کی بات ہے۔ 

جبکہ 82 کروڑ افراد رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ہے جس میں 75 فیصد افراد یعنی 61 کروڑ افراد کا تعلق زمیندار طبقے سے ہے جن پر کوئی ٹیکس ہی نہیں لا گو ہوتا۔ وہ سب ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔ بجٹ تقریر میں انہوں نے مشورہ دیا کہ یہ زمیندار اب پکے مکانوں کے مالک بن چکے ہیں۔ ان کے پاس قیمتی گاڑیاں اور دیگر آسائشیں بھی ہیں، ان کو سرکار مفت بجلی بھی دیتی ہے، ان کے بیجوں پر بھی سبسڈی ہے لہٰذا اب سرکار کو چاہئے کہ ان پر بھی تھوڑا بہت ٹیکس لگایا جائے۔ اس پر کسانوں اور زمینداروں نے بہت شور شرابہ کر کے ٹیکس رکوا دیا۔ انہوں نے بھی ہڑتال اور مظاہروں کی دھمکیاں دیں۔ 

وہاں کے پڑھے لکھے افراد کی سوسائٹیوں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ عوام کو دھمکا کر ٹیکس وصول کرنے کے بجائے جو افراد ٹیکس دے رہے ہیں انہیں خصوصی مراعات دیں۔ ہمارے ہاں ایک طرف ٹیکس امپورٹ کی سطح پر وصول کیا جاتا ہے پھر تمام صنعتی پیداوار پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس ہے جو پوری دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے حتیٰ کہ امریکہ اور کینیڈا جو اس ٹیکس کے موجد ہیں، بالترتیب 7 فیصد اور 9 فیصد ٹیکس خریدار سے وصول کرتے ہیں، مگر ہمارے ملک میں فروخت سے پہلے ہی صنعتکاروں سے فیکٹری سے مال نکالنے پر وصول کر لیا جاتا ہے اور اسی طرح ہر ہر مقام پر مختلف ناموں سے اور کہیں سرچارج کی آڑ میں ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ 

اس کے برعکس بنیادی ضرورتیں تعلیم، اسپتال کی سہولتیں بھی ناپید ہیں۔ کوئی بیروزگاری الائونس بھی نہیں دیا جاتا اور پھر بھی عوام خاموشی سے زندگی گزار رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت جس نے 17 سال وعدوں کی بھرمار کر کے الیکشن جیتا تھا، سے امید تھی کہ وہ اپنے وعدے پورے کر کے عوام کو سکھ کا سانس لینے کا موقع دے گی مگر سوا سال گزر چکا ہے ساری امیدوں پر اُوس پڑ چکی ہے۔ صرف سیاست سیاست کا کھیل جاری ہے۔ روز پکڑ دھکڑ سیاستدانوں کی تو ہو چکی مگر ان سے کیا نکلا؟ آئی ایم ایف کی چکی میں کب تک اور کہاں تک عوام کو پیسا جائے گا۔ 

تین ما ہ بعد پھر ایف بی آر کا پنڈورا بکس کھلے گا، تاجر اور صنعتکار پھر سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور پھر یہی شناختی کارڈ کا رونا رویا جائے گا۔ جہاں تک تاجروں کی جانب سے ٹیکس دینے کا معاملہ ہے تو حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 40 لاکھ تاجروں میں سے صرف 4 لاکھ افراد ٹیکس ریٹرن جمع کرواتے ہیں۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے حکومت کو بہت سے اقدامات کرنا پڑیں گے مگر یہ عمل صرف اتفاق رائے سے ہونا چاہئے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں تاجر، صنعتکار اور حکومت میں ہمیشہ رابطہ کا فقدان رہا ہے۔ ایسا نظام شروع کیا جائے جو رابطہ کاری کا کام بہتر طور پر انجام دینے میں مدد کرے، نیز تاجروں کو بھی اپنے معاملات پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔

خلیل احمد نینی تا ل والا

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments