سندھ حکومت کی لاپروائی، وزیرتعلیم کے نہ ہونے اور دُہرے چارج کے حامل سیکرٹری تعلیم کے باعث سندھ کے سرکاری اسکول تباہ ہو گئے ہیں اور صوبے میں معیار تعلیم انتہائی پست ہے، سرکاری اسکولوں کے نتائج اتنے بدترین آرہے کہ مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت کراچی کے 7 ؍ سرفہرست سرکاری کالجوں میں سرکاری اسکولوں کے صرف 16 طلباء انٹرسال اوّل میں داخل ہو پائے جبکہ نجی اسکولوں کے 4100؍ طلبہ نے ان کالجوں میں داخلہ لیا۔ انٹر بورڈ کراچی سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق رواں سال 2019ء میں انٹر سال اول میں آدمجی سائنس کالج میں سرکاری اسکول سے میٹرک کرنے والا صرف ایک طالبعلم داخلہ لے پایا جبکہ نجی اسکولوں سے میٹرک کرنے والے 600 طلبہ کو یہاں داخلہ ملا۔
پی ای سی ایچ گرلز کالج میں سرکاری اسکول سے میٹرک کرنے والی ایک طالبہ کو داخلہ ملا جبکہ نجی اسکولوں سے میٹرک کرنے والی 700 طالبات کو داخلہ دیا گیا۔ ڈی جے سائنس کالج میں سرکاری اسکولوں سے میٹرک کرنے والے 3 طلبہ داخلے کے اہل ہو گئے جبکہ 800 طلبہ کا تعلق نجی اسکولوں سے تھا۔ سینٹ لارنس گرلز کالج میں سرکاری اسکولوں سے میٹرک کرنے والی 2؍ طالبات داخل ہو پائیں جبکہ نجی اسکولوں سے میٹرک کرنے والی 500 طالبات کو داخلہ ملا۔ دہلی کالج میں سرکاری اسکولوں سے میٹرک کرنے والے 4 طلبہ کو داخلہ دیا گیا جبکہ نجی اسکولوں سے میٹرک کرنے والے 70 طلبہ کو داخلہ مل سکا۔ ملیرکینٹ کالج میں داخلہ لینے والے ایک طالبعلم کا سرکاری اسکول سے تعلق تھا جبکہ 300 کا نجی اسکولوں سے تھا۔
ایس آر ای مجید اسٹیڈیم روڈ کالج میں انٹر سال اوّل میں صرف 4 طلبہ کا تعلق سرکاری اسکولوں سے تھا جبکہ 500 کا تعلق نجی اسکولوں سے تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ محکمہ تعلیم اربوں روپے تعلیم پر خرچ کر رہا ہے، اسکولوں کے اقات کار بھی بڑھا دیئے ہیں جبکہ ہفتے کو بھی سرکاری اسکول کھلے رہتے ہیں تاہم اس کے باوجود سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم انتہائی پست ہے، جبکہ نجی اسکول سنیچر کو بند رہتے ہیں اور ان کا دورانیہ اب سرکاری اسکولوں سے کم ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت سندھ میں کوئی وزیر تعلیم نہیں اور سیکرٹری اسکول ایجوکیشن احسن منگی دہرے چارج کے حامل ہیں اور عجیب و غریب فیصلے کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں ان کے پاس سیکرٹری سرمایہ کاری کا بھی چارج ہے۔ پہلے انہوں نے محکمہ تعلیم کے ملازمین پر عمرے اور زیارت پر جانے پر پابندی لگائی اور پھر خود خاموشی سے کسی افسر کو چارج دیئے بغیر محکمہ تعلیم کو لاوارث چھوڑ کر سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کرنے آسٹریلیا چلے گئے۔
0 Comments