All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

ہنہ جھیل : بلوچستان کا خوبصورت تفریحی مقام

بلوچستان کے جغرافیے اور موسم میں بہت تنوع پایا جاتا ہے۔ صوبے کا ایک بڑا حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں سے بعض سنگلاخ اور سبزے کے بغیر ہیں جبکہ بعض درختوں سے لدے ہوئے ہیں۔ یہاں آبشاریں اور جھیلیں بھی ہیں۔ ان میں سے ایک جھیل صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ بلند پہاڑوں کے درمیان ایک خوبصورت جھیل ہے۔ اسے ہنّہ جھیل کہا جاتا ہے۔ کوئٹہ سے شمال کی طرف واقع سنگلاخ چٹانوں میں 1894ء میں تاج برطانیہ کے دور میں زیر زمین پانی کی سطح بلند رکھنے اور آس پاس کی اراضی کو سیراب کرنے کے لیے ہنہ جھیل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ہنہ جھیل موسم سرما میں مہاجر پرندوں کی آماجگاہ رہی۔

سائبیریا سے آنے والے آبی پرندوں جن میں بڑی تعداد میں مرغابیاں ہوتی ہیں، موسم سرما میں پہنچتے اور موسم بہار کی آمد تک یہیں رہتے اور افزائش نسل بھی کرتے تھے۔ 1818 ایکڑ رقبے پر پھیلی اس جھیل میں 32 کروڑ 20 لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس کی گہرائی تقریباً 43 فٹ ہے بارشوں اور برفباری کا پانی مختلف گزرگاہوں سے ہوتا ہوا جھیل تک پہنچتا ہے۔ کوئٹہ اور آس پاس کے لوگوں کے لیے یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ سیاحوں کے لیے ایک دلکش مقام ہے۔ یہاں ہر موسم میں سیاحوں آتے ہیں۔ چاروں جانب پہاڑوں کی موجودگی میں ہنہ جھیل ایک بہت بڑے پیالے کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ بارش اور برف باری کے باعث یہ پانی سے بھری رہتی ہے۔ جھیل کا پانی زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ 

اسے اطراف میں پھیلے ہوئے کھیتوں اور پھلوں کے باغات تک پہنچایا جاتا ہے اس طرح اس جھیل کو سیاحت کے ساتھ ساتھ زراعت اور باغبانی کے لحاظ سے بھی اہمیت حاصل ہے۔ جھیل سیف الملوک پاکستان کی بہت مشہور جھیل ہے۔ ہنہ اپنی نوعیت اور شکل و صورت کے لحاظ سے شمالی علاقے کی مشہور جھیل سیف الملوک سے ملتی جلتی ہے لیکن اسے جھیل سیف الملوک کی طرح خوبصورت درختوں اور سبزے سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں والا ماحول میسر نہیں، اس کے اطراف میں پھیلے ہوئے بھورے اور مٹیالے پہاڑ، درختوں اور سبزے سے محروم ہیں اس کمی کو دور کرنے کے لیے ہنہ جھیل کے کنارے شجرکاری بھی کی گئی۔ وہاں کافی تعداد میں پائن، چنار اور ایش کے درختوں کے علاوہ پھلدار درخت بھی لگا دیئے گئے جس کی بدولت ماحول خوبصورت ہو گیا۔ مقامی اور بیرونی سیاحوں کے لیے اس کی دلکشی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

فرزانہ خان

بشکریہ دنیا نیوز

Post a Comment

0 Comments