All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

اگر کسی کو لو لگ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟

اگر جسم کا درجہ حرارت آدھے گھنٹے میں کم ہو جائے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔
برطانوی ادارہ نیشنل ہیلتھ سروسز تجویز کرتا ہے کہ
*متاثرہ شخص کو ٹھنڈی جگہ منتقل کریں۔

*انھیں لٹائیں اور ان کے پاؤں کو ہلکا سا اوپر کریں۔

*انھیں زیادہ مقدار میں پانی پلائیں، یا ڈی ہائڈریشن ڈرنکس یا مشروبات بھی دیے جا سکتے ہیں۔

*ان کی جلد کو ٹھنڈا کریں، ٹھنڈے پانی کی مدد سے اس پر سپرے کریں اور پنکھے کی ہوا لگنے دیں۔ بغل اور گردن کے پاس آئس پیک بھی رکھا جا سکتا ہے۔

*تاہم اگر وہ 30 منٹ کے اندر اندر بہتر محسوس نہ کریں تو اس کا مطلب ہے ان کو ہیٹ سٹروک ہو گیا ہے۔ یہ ایک ہنگامی صورتحال ہے اور آپ کو فوراً طبّی عملے کو فون کرنا چاہیے۔

*ہیٹ سٹروک کا شکار ہونے والے افراد کا گرمی لگنے کے باوجود پسینہ آنا بند ہو سکتا ہے۔ ان کے جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہونے کے بعد وہ بے ہوش ہو سکتے ہیں یا انھیں دورے پڑ سکتے ہیں۔ صحت مند افراد عام سمجھ بوجھ استعمال کر کے گرمی کی لہر میں خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو لو لگنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ زیادہ عمر کے لوگ یا دل کی بیماری جیسے امراض کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے گرمی کی وجہ سے جسم پر پڑنے والے دباؤ سے نمٹنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ذیابطیس 1 اور 2 کی وجہ سے جسم تیزی سے پانی کی کمی کا شکار ہوتا ہے اور بیماری کی وجہ سے شریانیں اور پسینہ پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ بات بھی اہم کردار ادا کرتی ہے کہ آپ کو سمجھ ہو کہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت بہت بڑھ چکا ہے اور یہ کہ اس بارے میں آپ کو کچھ کرنا چاہیے۔ ہم اس بات کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتے لیکن بچوں اور ذہنی امراض کے شکار افراد گرمی کی لہر کا زیادہ آسان شکار ہو سکتے ہیں۔ بے گھر افراد کو سورج کی تپش زیادہ محسوس ہو گی اور فلیٹ میں سب سے اوپر رہنے والے لوگوں کو بھی زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کیا کچھ ادویات گرمی لگنے کا خدشہ بڑھا دیتی ہیں؟
جی بالکل لیکن لوگوں کو اپنی ادویات باقاعدگی سے لینی چاہییں اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے اور پانی کی کمی سے بچنے کے لیے احتیاط کرنی چاہیے۔

کیا گرمی سے موت واقع ہو سکتی ہے؟
جی ہاں۔ برطانیہ میں ہر سال گرمی کی وجہ سے تقریباً 2000 اموات ہوتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اموات دل کا دورہ پڑنے یا سٹروک سے ہوتی ہیں کیونکہ جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے کی وجہ سے دل پر دباؤ پڑتا ہے۔ اندازے کے مطابق یورپ میں سنہ 2003 میں پڑنے والی گرمی کی وجہ سے 70000 اضافی اموات ہوئیں۔

دن اور رات کے اوقات میں درجہ حرارت
دن کے اوقات میں جب سورج سر پر ہو گا تو درجہ حرارت بھی عروج پر ہو گا لیکن رات کے اوقات میں درجہ حرارت بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے جسم کو وقفے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر جسم پر بنیادی درجہ حرارت کم رکھنے کا دباؤ دن رات برقرار رہے تو کئی امراض لاحق ہونے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

تو گرمی کے بارے میں کیا کیا جائے؟
اس بارے میں تجویز بہت آسان اور سادہ ہے۔ آپ ٹھنڈے رہیں اور جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ پانی اور دودھ پیتے رہیں۔ چائے اور کافی بھی ٹھیک ہے۔ لیکن شراب سے اجتناب کیجیے کیونکہ یہ آپ کے جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ بس جسم کو ٹھنڈا رکھیے۔ اگر باہر زیادہ گرمی ہے تو کھڑکیاں بند رکھیں اور پردے مت ہٹائیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Post a Comment

0 Comments