یقیناً عوام انکم ٹیکس اور سیلزٹیکس کے بڑھنے سے پریشان ہیں۔ حکومت بھی پرانے قرضے اور ان کی واپسی کے لیے نئے قرضوں پہ انحصار سے دباؤ کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ٹیکسوں کے ذریعہ حکومتی آمدن کو بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن کیا صرف ٹیکس خاص طور پر سیلز ٹیکس لگانے اور بڑھانے سے حکومتی آمدن میں اضافہ ہو جائے گا یا کچھ اور بھی احتیاطی تدابیر لینی ہوں گی۔ سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ عوام کا اعتماد بحال کیا جائے تاکہ وہ ٹیکس کے لیے آمادہ ہوں۔ اعتماد بحال کرنے کا طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ واضح طور پر ویب سائڈ پر بھی ہر مہینے کے حساب سے یہ ریکارڈ رکھا جائے کہ کتنا ٹیکس جمع ہوا اور اس پیسے سے کیا اخراجات کئے گئے۔
خاص طور پر ترقیاتی اخراجات یا پھر اس رقم سے بجٹ کا خسارہ کم ہوا تو اگلے مالی سال میں حکومت اب کم قرضہ لے گی۔ یقیناً ابتداء میں یہ عجیب لگے گا۔ لیکن آہستہ آہستہ ایک ایک چیز کا الگ الگ ریکارڈ فراہم کرنے سے عوام کو احساس ہو گا کہ ان کی آمدنی جو ٹیکس کی شکل میں لی جارہی ہے اس کا مناسب اور صحیح استعمال ہو رہا ہے۔ دوسرا اور سب سے اہم قدم جو حکومت کو اٹھانا ہے وہ یہ ہے کہ پیٹرول اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے مختلف پتھارے دار، دوکاندار اور صنعت کار نے اپنی اپنی قیمتوں میں اضافہ کیا ہوا ہے اس کو چیک کرنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ ہر کسی نے پیٹرول اور ڈالر کا سہارا لیتے ہوئے بڑی دل کھول کے اپنی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ مثلاً تندور کی روٹی 10 روپے سے 12 روپے کی ہو گئی۔
جب گندم کی ترسیل میں ڈالر کی ملاوٹ نہیں ہے تو پیٹرول کا کتنا اثرپڑے گا؟ ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 17 روپے اضافہ ہوا ہے۔ ایک ٹرک جو کھیت سے گندم لے کرصنعتوں تک جاتا ہے تو کتنا پیٹرول استعمال ہوتا ہےاوراس ٹرک پر کتنا گندم لدا ہوتا ہے؟ پھر صنعت سے آٹے کی شکل میں نکل کر بازار تک آنے میں کتنا پیٹرول کتنے کلو آٹے پر خرچ ہوتا ہے کہ جب روٹیاں بنتی ہیں تو ایک روٹی میں پیٹرول کا اضافہ بمشکل ایک پیسہ یا دو پیسہ بنتا ہے۔ چلیں بہت زیادہ کر لیں تو 5 پیسہ اس سے زیادہ نہیں ہوتا ایسے میں 2 روپے ایک روٹی پر بڑھانے کا کیا جواز ہے؟ یہی حال ڈبل روٹی کا بھی ہے۔ بالکل اسی طرح دودھ کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر کااضافہ کس حساب سے؟
اسی طرح مختلف کھانے پینے کی دوکان پر جائیں تو 14 فیصد سیلز ٹیکس کے ساتھ ان کی قیمتوں میں بھی 10 سے 20 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ آخر پرائس کنٹرول اتھارٹی کس دن کے لیے قائم کی گئی ہے صرف تنخواہیں لینے کے لیے؟ منافع کمانا یقیناً ضروری ہے۔ لیکن کسی کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر منافع کمانا کہاں کا انصاف ہے؟ لہذا ضروری امر یہ ہے کہ ٹیکسوں کے علاوہ قیمتوں میں اضافہ جو کہ ڈالر اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ اس کا جائزہ لیا جائے اور ناجائز اضافہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ خاص طور پر بنیادی ضرورتوں کی چیزوں پہ ناجائز اضافہ کرنے والوں کے خلاف۔ تیسرا یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ سیلز ٹیکس تو لگا دیا ہے کہ لیکن کہیں ریکارڈ بھی رکھا جارہا ہے کہ نہیں؟
کیونکہ سیل کتنی ہوئی ہے اور حکومت کو آمدن کتنی۔ اسکا حساب کون رکھ رہا ہے؟ ٹیکس تو ہر سیلز مین لے رہا ہے لیکن کوئی رسید فراہم نہیں کی جارہی ایسے میں سیلز ٹیکس کا ریکارڈ کیسے رکھا جائے گا؟ کیسے جو آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کا ہدف پورا کیا جائے گا؟ کیونکہ بہت ساری جگہوں پہ ٹرانزیکشن کیش میں ہوتی ہیں اور کسی قسم کی رسید نہ فراہم کی جاتی ہے نہ وصول۔ ایسے میں ٹرانزیکشن کا ریکارڈ نہ ہونے سے کیا ٹیکس کی وصولی ہدف کے مطابق ہو سکے گی؟ چوتھے اب صارفین کے لیے ضروری ہے کہ جب بھی خریداری کریں تو رسید ضرور طلب کریں۔ اور اپنے نام کی رسید بنوائیں۔ سال بھر ان رسیدوں کو سنبھال کر رکھیں تاکہ جب ٹیکس کی تفصیل فائل کر رہے ہوں تو یہ ساری تفصیل لکھیں اور رسیدیں لگائیں۔
پانچویں، پانچ اور ایک روپے کے نوٹ دوبارہ بحال کئے جائیں کیونکہ قیمتیں ہوتی ہے 695.10 روپے لیکن وصولی پوری 700 روپے کی جاتی ہے۔ پیٹرول کی قیمت 112.68 روپے اسی طرح سی این جی کی قیمت میں بھی روپے کے ساتھ کچھ پیسے ہوتے ہیں جبکہ وہ لوگ اس کو Round off کر کے پورے لیتے ہیں۔ ایسے میں اضافی رقم عوام پر بوجھ اور بیچنے والوں کی اضافی آمدنی کا سبب بنتی ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ حکومت خود ہی اس کو Round off کر کے قیمت مقرر کرے تاکہ اضافی رقم حکومت کے پاس جائے۔ یا پھر سے نوٹ چھاپ کر عوام کو دے تاکہ اس اضافی بوجھ سے عوام نکلیں۔ کیونکہ عوام کے لیے سکوں کو سنبھالنا اتنا آسان نہیں ہوتا اسی لیے ہر قیمت 10 روپے سے ہی شروع ہوتی ہے۔عوام میں بھی اتنی ہمت اور خود اعتمادی ہونی چاہیئے کہ وہ ایک ایک روپے کا پورا حساب لیں۔ کیونکہ حالات جادو سے نہیں بدلتے کچھ محنت بھی کرنی پڑتی ہے۔
0 Comments