وفاقی حکومت ملک کی زبوں حال معیشت کی بحالی، کھربوں روپے کے قرضوں کی ادائیگی اور کثیرالمقاصد ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی غرض سے ٹیکس نیٹ بڑھا کر سرکاری آمدنی میں اضافہ کے لئے جو مشکل لیکن دور رس اہمیت کے حامل فیصلے کر رہی ہے ان کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور اربوں روپے سرکاری خزانے میں آ رہے ہیں جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ یکم جولائی 2019 سے شروع ہونے والے مالی سال میں معاشی بحران پر بڑی حد تک قابو پا لیا جائے گا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران ٹیکس دہندگان کی تعداد میں 7 لاکھ 15 ہزار سے زائد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 21 لاکھ 94 ہزار تک پہنچ گئی جن میں نجی و سرکاری شعبوں کے ساڑھے سات لاکھ تنخواہ دار ٹیکس دہندگان بھی شامل ہیں۔
حالیہ ایمنسٹی اسکیم کے دوران بھی تقریباً 40 ہزار نان فائلرز نے گوشوارے جمع کرائے اس سے بھی ٹیکس بیس میں اضافہ ہوا۔ سیکورٹی ایکسچینج آف پاکستان میں رجسٹرڈ 40 لاکھ نان فائلر کمپنیوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کے اقدامات جاری ہیں۔ ان اقدامات سے آئندہ 5 سال میں گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 50 لاکھ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو پورا ہو گیا تو ملکی معیشت کی ہیئت بدلنے میں غیر معمولی مدد مل سکتی ہے۔ آمدنی بڑھانے کے لئے ایف بی آر نے لاکھوں چھوٹے بڑے خوردہ فروشوں اور ہول سیلرز کو ٹیکس سسٹم میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریٹیلرز پر سالانہ بنیادوں پر 20 ہزار سے 40 ہزار روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے جبکہ ہول سیلرز سے ان کے سالانہ ٹرن اوور کے حساب سے ٹیکس لیا جائے گا۔
ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق ریٹیلرز اور ہول سیلرز پر ٹیکس عائد کرنے سے پہلے رائے عامہ معلوم کرنے کا بھی اہتمام کیا جائے گا جو ایک اچھا اقدام ہو گا۔ اس حقیقت سے پوری قوم آگاہ ہے کہ ملک کی معاشی حالت اس وقت دگرگوں ہے جسے سنبھالا دینے کے لئے حکومت کو آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکیج لینا پڑا۔ ورلڈ اکنامک فورم نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کو دنیا کی 140 معیشتوں میں 107واں درجہ دیا ہے جو بے پناہ قدرتی وسائل اور افرادی قوت کی حامل قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ گزشتہ دس سال میں حاصل کئے جانے والے قرضوں اور ان کے استعمال کی تحقیقات کے لئے قائم انکوائری کمیشن کے مطابق پاکستان نے اس عرصے میں 400 سے زائد قرضے لئے جن کا حجم ستمبر 2018 تک 30846 ارب روپے تھا۔
ان میں سے 413 قرضوں کے تحت 70 ارب 69 کروڑ 31 لاکھ ڈالر حاصل کئے گئے جن کا بڑا حصہ دیامر بھاشا ڈیم، داسو ڈیم، مہمند ڈیم، کراچی نیو کلیئر پاور پروجیکٹس اور کراچی تا لاہور موٹر وے وغیرہ پر صرف ہوا ان میں سے کچھ منصوبے مکمل ہوئے کچھ ابھی تک زیر تکمیل ہیں جبکہ ان کیلئے لئے جانے والے قرضوں پر سود بڑھتا چلا گیا۔ موجودہ حکومت کو یہ قرضے چکانے اور ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لئے گیارہ ماہ میں 6 ہزار ارب روپے کے مزید قرضے لینا پڑے۔ اس پسِ منظر میں مناسب ٹیکسوں کا نفاذ حکومت کی مجبوری اور جن لوگوں پر ٹیکس واجب ہے ان کی ذمہ داری ہے۔
یہ کڑوی گولی نگلنا ہی پڑے گی۔ غیر ملکی قرضوں سے نجات، برآمدات میں اضافہ تجارتی خسارے میں کمی، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری، سرکاری و غیر سرکاری سطح پر کفایت شعاری اور امن و سلامتی کا ساز گار ماحول پاکستان کی بقا ترقی اور معاشی خوشحالی کے لئے وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔ قوم یقیناً اس آزمائش پر پوری اترے گی لیکن مہنگائی میں بے محابا اضافہ سے عام آدمی کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ اکثریت کی فی کس آمدنی دو وقت کی روٹی کے لئے بھی ناکافی ہے۔ ان حالات میں جن طبقوں پر ٹیکس لگائے جائیں انہیں بھی پیشگی اعتماد میں لیا جائے اور ان کی حقیقی آمدنی کو مدنظر رکھ کر فیصلے کئے جائیں تا کہ ان پر بے جا بوجھ نہ پڑے عوام کو بھی چاہئے کہ ٹیکسوں کی ادائیگی سے گریز نہ کریں ورنہ ملکی معیشت اپنے پائوں پر کھڑی نہیں ہو سکے گی۔
0 Comments