علم کی ہر دور میں اہمیت اور ضرورت رہی، جن لوگوں نے کامیاب زندگی گزاری، ان کو علم سے روشنی اور راہِ عمل ملی۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ علم حاصل کرنے والے کی زندگی ناکام اور نامراد ہو۔ صدیوں سے علم کو کلیدی اہمیت حاصل رہی ہے، کتابوں کا دور شروع ہونے سے قبل علم کا سلسلہ زبانی اور سینہ بہ سینہ تھا۔ انسان کا حافظہ بہت تیز تھا اور ایک دوسرے سے زبانی طور پر علم حاصل کرتے تھے۔ کاغذ کا دور شروع ہونے سے بھی صدیوں قبل کتابیں لکھی جانے لگی تھیں، چمڑے پر، درختوں، پتھروں اور دیگر اشیاء پر۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کون سا علم حاصل کیا جائے؟ کیوںکہ علم تو سمندر ہے اور کوئی اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکا۔ بنیادی طور پر ہمیں علم ہونا چاہیے کہ ہمیں کس نے پیدا کیا؟ کیوں پیدا کیا؟ کس لیے پیدا کیا؟
ہماری دنیا میں آمد کا مقصد کیا ہے، دنیا میں قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ کیا ہے، ہمارے شہر، ہمارے ملک، امت مسلمہ اور دنیا کی تاریخ کیا ہے، ایسا کیا کریں کہ ہماری زندگی کامیاب گزرے، علم اور ادب، شعر وسخن، وغیرہ وغیرہ کیا ہے؟ ان تمام سوالوں کے جواب کتابوں ہی سے مل سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا صرف معلومات دے سکتی ہے، علم نہیں۔ ہوش سنبھالنے یعنی لڑکپن سے جوانی کی حدود میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی ہمیں ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے چاہئیں۔ انسان کے مقصد ِ حیات اور زندگی گزارنے کے بنیادی اصولوں کے درست اور جامع جواب ہمیں کوئی انسان دے ہی نہیں سکتا، ان کے جوابات تو ہمارا خالق اور ہمارا ربّ ہی دے سکتا ہے اور اس نے ابتدائے آفرینش سے اس کا اہتمام کیا۔ یعنی آسمانی کتابیں اور انبیاء کی بعثت کا سلسلہ۔ تمام آسمانی کتابوں میں تحریف ہوتی رہی اور سرکش اور مفسد لوگ اور شیطان کے پیروکار انبیاء کو جھٹلاتے رہے۔
صرف آخری آسمانی کتاب یعنی قرآن کریم میں نہ تو کوئی تحریف ہو سکی اور نہ ہی ممکن ہے، کیوںکہ ہمارے ربّ نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اور عملی قرآن یعنی سرکار دو عالم سیدنا محمد مصطفیٰ ؐ کی ذات بابرکات۔ قرآن اور سنت کی روشنی میں انسان خاص طور پر مسلمانوں کو ان تمام سوالوں کے جواب مل سکتے ہیں، جن کی تلاش میں اگر زمین اور آسمان ایک کر دیے جائیں تو نہ مل سکیں۔ یہ دونوں انسان کی عملی ہدایت کے لازوال سرچشمے ہیں۔ ہر انسان کی یہ آرزو ہوتی ہے کہ وہ کامیاب زندگی گزارے، اس کے پاس دولت ہو، گاڑی ہو، خوبصورت شریک حیات اور بچے ہوں اور کوئی غم اس کے قریب نہ آئے۔ مگر محض آرزو کرنے اور دوسروں کی نقالی کرنے سے یہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔
قرآن وسنت وہ راستہ دکھاتے ہیں، جن سے دنیا کی زندگی بھی چین اور سکون سے گزرتی ہے اور آخرت میں بھی کامیابی مقدر بن جاتی ہے۔ جس وقت بھی یہ احساس ہو جائے کہ علم حاصل کرنا ہے اور اندھیروں سے روشنی میں آنا ہے تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنے چوبیس گھنٹوں کا شیڈول تیار کرنا اور اس پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ پہلے دس دن تو اس امر کا جائزہ لیا جانا چاہیے کہ ہمارے دن اور رات کن کاموں میں صرف ہوتے ہیں۔ اس مشق سے معلوم ہو جائے گا کہ ہمارا وقت کن کاموں میں گزرتا ہے۔ طالب علم اپنی تدریسی سرگرمیوں، جوان اپنے حصول روزگار، خواتین اپنے گھریلو کاموں اور بوڑھے دیگر کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن دس دن اپنی مصروفیات کو تحریری صورت دینے سے معلوم ہو جائے گا کہ ہمارا وقت کن کن کاموں میں صرف ہو رہا ہے۔ اور میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم روزانہ اوسطاً پانچ چھ گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں۔
ضرورت سے زیادہ سونے، کھانے پینے، نہانے دھونے، سفر کرنے اور دیگر کام سست رفتاری سے کرنے میں۔ خاص طور پر موجودہ دور میں موبائل فون وقت ضائع کرنے کا بہت بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے اور دوسرا نمبر ٹیلی ویژن اور دوستوں کا ہے۔ اگر کامیاب زندگی گزارنی ہے تو چوبیس گھنٹے کا ٹائم ٹیبل بنا کر فالتو کاموں سے جان چھڑانا ہو گی۔ دیگر اچھے کاموں کے ساتھ ساتھ ہر فرد آسانی کے ساتھ روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ مطالعہ کے لیے وقف کر سکتا ہے۔ میں تو ہر ایک کو یہی مشورہ دوں گا کہ صبح سویرے بیدار ہو کر فرائض و واجبات سے فارغ ہو کر قرآن کریم کی تلاوت، ترجمہ اور تفسیر، احادیث اور سیرت النبیؐ اور حیات صحابہ کرام ؓ اور اولیائے کرام ؒ کا تھوڑا تھوڑا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ان کے علاوہ ان کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے، جن میں آپ کو دلچسپی ہو اور دل لگے اور ان کے مطالعہ کے دوران آپ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جائیں، جو آپ کے دل ودماغ کو تازگی بخشیں اور انہیں روشن کر دیں۔ اگر آپ نوجوان ہیں تو مطالعہ سے پہلے اپنے بڑوں اور اساتذہ سے مشورہ کر لیں۔
تعلیمی اداروں میں زیادہ تر وہ علم حاصل کیا جاتا ہے، جو اچھے روزگار کی ضمانت دے سکے، لیکن یہاں اس علم پر زور دیا جارہا ہے، جو آدمی کو انسان بنا سکے اور انسانیت سکھا سکے۔ اس حوالے سے مندرجہ بالا موضوعات کے علاوہ ادب، شاعری، سیاحت، جغرافیہ اور کہانیوں کے علاوہ تاریخ کا مطالعہ بھی بہت کارآمد ہے۔ خاص طور پر اپنے وطن پاکستان کی تاریخ، اسلام کی تاریخ، اور تاریخ عالم۔ جس کی بدولت ہمیں گزری ہوئی اقوام اور عہد حاضر کے بارے میں آگاہی حاصل ہو سکے گی۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ علم سمندر ہے، ہمیں یہ غور کرنا ہے کہ ہم اس سمندر سے کتنا استفادہ کریں، جو ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کر دے۔
مطالعہ کے لیے اپنے چوبیس گھنٹوں میں سے اوقات مقرر کرنے چاہئیں۔ جیسے صبح کا وقت اور رات کو سونے سے پیش تر۔ اس کے علاوہ کم از کم ایک کتاب ساتھ رہنا چاہیے، جسے سفر میں اور مختلف مقامات پر انتظار کے دوران پڑھا جا سکے۔ مطالعہ کے ساتھ اسے جذب کرنا بھی ضروری ہے، یعنی وہ آپ کے ذہن کے نہاں خانوں میں محفوظ ہو جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جو کچھ پڑھا ہو، اس کے نوٹس لیے جائیں اور اس کے بارے میں اپنے اہل خانہ اور قریبی دوستوں سے گفتگو کی جائے تاکہ نہ صرف یہ کہ دوسرے اس سے مستفید ہوں، بلکہ وہ آپ کے اندر جذب ہو جائے۔ کوشش کریں کہ فضول کتابوں کے مطالعہ میں وقت ضائع نہ کریں، بلکہ ایسا علم حاصل کریں جو نافع ہو، نافع سے مراد یہ نہیں کہ اس کی بدولت آپ کو بہت سے پیسے مل جائیں بلکہ اس کی بدولت آپ اچھے انسان بن جائیں، اپنے ربّ کے بندے، دوسروں سے محبت کرنے والے اور دوسروں کے کام آنے والے۔ اسی کو علم نافع کہا گیا ہے۔ نبی اکرم ؐ نے فرمایا کہ اللہ سے علم نافع کا سوال کرو اور غیر نافع علم سے پناہ مانگو!۔
0 Comments