All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

پاکستان میں غیر منقولہ جائیداد کے نئے ریٹس

ملک کی تیزی سے بڑھتی آبادی اور دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی کا یہ نتیجہ ہے کہ گزشتہ کم و بیش تین دہائیوں میں شہروں کا پھیلائو کسی منصوبہ بندی یا ترتیب کے بغیر ہی بڑھتا چلا گیا، وقت کے ساتھ ساتھ اس رجحان میں تیزی آ رہی ہے جس سے زرعی اور زیر کاشت رقبہ آبادیوں میں تبدیل ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال من حیث القوم ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے، اگر اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو ایک طرف قابل کاشت رقبے میں کمی آنے سے غذائی قلت پیدا ہو گی اور دوسری طرف زمینی و فضائی آلودگی جیسے مسائل میں اضافہ ہو گا۔ 

وزیراعظم عمران خان بھی برسر اقتدار آنے کے بعد اپنی تقاریر میں اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ قابل کاشت اور زیر کاشت رقبے کو شہری آبادیوں میں منتقل ہونے سے روکنے کے لئے کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ اس سوچ کو بلا تاخیر عملی جامہ پہنایا جائے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جو نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے اس کے تحت اسلام آباد و راولپنڈی سمیت ملک کے 20 شہروں کی غیر منقولہ جائیداد کے 85 فیصد تک نرخوں کا ازسر نو تعین کیا گیا ہے، نئے نرخ اس سال فروری کے مہینے میں متعین کردہ نرخوں پر نظر ثانی کے بعد اسٹیک ہولڈرز کے مشورے سے مقرر کئے گئے ہیں.

جس سے شہروں کی مخصوص آبادیوں سے جن میں سیٹلائٹ ٹائون، ڈی ایچ اے، بحریہ ٹائون اور دیگر علاقے شامل ہیں، فی مرلہ بالحاظ آبادی، تجارتی، صنعتی، رہائشی ریٹ مقرر کرنے سے حکومت کے محاصل میں بھی اضافہ ہو گا اور خصوصاً بڑے رقبہ جات کی طرف عوامی رجحان میں کمی آئے گی۔ قیام پاکستان کے بعد مناسب توجہ نہ دیئے جانے کا یہ نتیجہ ہے کہ جائز و ناجائز اور نمود و نمائش کے طور پر لوگوں میں بڑے پیمانے پر بڑے بڑے پلاٹ خریدنے کا رجحان بڑھا ہے، اس کی حوصلہ شکنی ضروری ہو چکی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments