All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

پاکستانی بینکوں میں بےنامی کھاتے کس کے ہیں ؟

چیئرمین ایف بی آر شبر رضا زیدی نے تمام بینکوں کو خط لکھ کر 15 روز کے اندر بےنامی اکائونٹس کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ چیئرمین نے یقین دہانی کرائی کہ بےنامی اکائونٹس کی تمام تر معلومات خفیہ رکھی جائیں گی، انہوں نے کہا کہ بےنامی ایکٹ 2017 کے تحت بینک اپنے تمام اکائونٹ ہولڈرز کے بےنامی اکائونٹس کی تفصیلات خود طلب کریں۔ بےنامی کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ کسی بینک میں کوئی بےنام اکائونٹ ہو یا کوئی جائیداد کسی کے نام پر نہ ہو کہ ایسا ممکن نہیں۔ وطن عزیز میں کچھ عرصے سے بےنامی اکائونٹس اور کھاتوں کی اصطلاح ان بینک کھاتوں اور املاک کے لئے استعمال ہو رہی ہے جن کے اصل مالک اپنے بجائے کسی اور کے نام پر اکائونٹ کھلواتے یا جائیدادیں خریدتے ہیں.

عموماً اس شخص کو علم بھی نہیں ہوتا کہ اس کے اکائونٹ میں اربوں روپے پڑے ہیں یا وہ بیش قیمت جائیداد کا مالک ہے۔ یہی بےنامی ایکٹ کی تعریف بھی ہے کہ ایسی منتقلی یا انتظامات جو جعلی نام پر کئے جائیں یا ملکیت کا مالک منتقلی سے آگاہ نہ ہو اور ملکیت سے لاتعلقی کا اظہار کرے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ سرمایہ کاروں کا کھیل ہے جو اپنے چوکیداروں، ڈرائیوروں اور دیگر ملازمین کے نام پر ایسے اکائونٹس کھولتے اور جائیدادیں خریدتے ہیں اور پھر جب کسی فالودے والے کے بینک اکائونٹ میں اربوں روپے کا انکشاف ہوتا ہے تو دنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ 

بےنامی املاک کے بارے میں ایف بی آر واضح کر چکا ہے کہ صرف گاڑی، بنگلہ یا کیش ہی نہیں زیورات، پلازے، ہائوسنگ اسکیمیں، بزنس شیئرز اور غیر ملکی کرنسی کی قانونی دستاویزات بھی ظاہر نہ کیں تو یہ بےنامی تصور ہوں گی۔ ’’بےنامی ایکٹ‘‘ کے تحت ایسی جائیدادیں ضبط ہوں گی، مارکٹ ویلیو کے تحت 25 فیصد جرمانہ اور ایک سے سات سال سزا بھی ہو گی۔ بلاشبہ یہ اقدام کرپشن کے خاتمے میں موثر ثابت ہو گا۔ ایف بی آر کو چاہئے کہ اپنے اس عمل کو شفاف بنانے کے لئے مطلوبہ ثبوتوں کے بعد ہی کارروائی کرے تاکہ کوئی اس احسن عمل کو متنازع بنانے کی کوشش نہ کر پائے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments