All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

ریاست چلانے کے لئے ٹیکس ضروری ہے

عوام کو داخلی و خارجی خطرات سے تحفظ، صحت، تعلیم، بجلی، پانی، گیس، روزگار، مواصلات کی کثیرالجہتی سہولتیں اور سماجی زندگی کی تمام دوسری آسانیاں فراہم کرنے کی ذمہ داری آئین نے ریاست پر عائد کی ہے اور ریاست کو یہ ساری ذمہ داری پوری کرنے کے لئے وافر مالی وسائل کی ضرورت پڑتی ہے جس کا بڑا ذریعہ مختلف النوع ٹیکس ہیں جو معاشرے کے مختلف طبقات پر ان کی استطاعت کے مطابق نافذ کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ ذمہ داری عوام کی ہے کہ وہ ریاست کو چلانے کے لئے اپنی آمدنی کا ایک حصہ حکومت وقت کے مقرر کردہ نصاب کے مطابق بلا حیل و حجت پوری دیانتداری کے ساتھ قومی خزانے میں جمع کراتے رہیں ۔

جن ممالک کے عوام اپنی اس ذمہ داری کو خوش دلی سے اور قومی فریضہ سمجھ کر انجام دیتے ہیں وہ ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں آگے نکل جاتے ہیں، جس طرح مغربی ممالک میں اس وقت دیکھا جا رہا ہے۔ جن ملکوں میں مختلف حیلے بہانوں عذر تراشیوں اور ہیرا پھیری کے ذریعے اس فرض سے پہلو تہی کی جاتی ہے وہاں کے لوگ اجتماعی اور انفرادی دونوں سطحوں پر اقتصادی بحرانوں میں گھر کر مسائل و مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان دوسری قسم کے ملکوں میں ہوتا ہے جہاں 22 کروڑ کی کثیر آبادی میں سے صرف ایک فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ ظاہر ہے جب اتنی بڑی آبادی کے مالی
اخراجات کا بوجھ محض چند لاکھ ٹیکس دہندگان پر ہو گا تو غربت کے سائے تو پھیلتے ہی چلے جائیں گے۔ 

حکومت کو جب اپنے وسائل سے معقول آمدن نہیں ہوتی تو وہ غیر ملکوں اور بین الاقوامی اداروں سے ان کی اپنی شرائط پر قرضہ لینے پر مجبور ہو گی پھر ان قرضوں کی بمعہ سود ادائیگی سے مزید قرضوں کا حصول ناگزیر ہو جائے گا اور یہ سلسلہ قومی غلامی تک دراز ہوتا جائے گا۔ اس بدترین صورتحال سے بچنے کے لئے حکومت اپنے طور پر جو کچھ اس سے ہو سکتا ہے کر رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے سرکردہ کاروباری حضرات اور صنعت کاروں سے ملاقات کی جس میں متعدد برآمدی مصنوعات پر دی جانے والی ٹیکسوں کی مراعات ختم کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ ایف بی آر کی طرف سے تجویز آئی کہ ایسی اشیا کی برآمد پر ٹیکس نہ لگایا جائے بلکہ مقامی مارکیٹ میں ان کی سیل پر ٹیکس وصول کیا جائے۔ 

یہ تجویز اس لئے مناسب ہے کہ 2007ء میں برآمدی اشیا پر زیرو ریٹنگ ختم کی گئی تو محصولات کی آمدنی کم ہو گئی اس لحاظ سے وزیراعظم کی یقین دہانی مستحسن ہے کہ حکومت کاروباری پالیسیاں کاروباری برادری کے صلاح مشورے سے ہی بنائے گی تا کہ حکومتی خزانے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان کو بھی فائدہ پہنچے۔ ایف بی آر کے ترجمان کا یہ بیان بھی قابل غور ہے کہ پاکستان میں عمرہ زائرین کی تعداد ٹیکس دہندگان سے زیادہ ہے۔ 30 مئی تک تقریباً 16 لاکھ پاکستانیوں نے عمرہ ادا کیا جبکہ ٹیکس دینے والوں کی تعداد 12 سے 14 لاکھ کے درمیان ہے۔ 2017-18 میں ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد 19 لاکھ تھی جن میں سے ٹیکس ادا کرنے والے زیادہ سے زیادہ 14 لاکھ تھے۔ ٹیکس دینے والوں میں سب سے بڑا طبقہ تنخواہ داروں کا ہے جن کی تنخواہوں سے ان کے ادارے خود ہی ٹیکس کاٹ لیتے ہیں۔

 حکومت زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کی کوشش کر رہی ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ کوئی بھی کاروباری شعبہ اپنی مرضی سے ٹیکس دینے کو تیار نہیں۔ ایف بی آر آئندہ بجٹ میں کئی اہم شعبوں میں سیلز ٹیکس کی خصوصی رعایت ختم کرنے پر غور کر رہی ہے جو شاید موجودہ معاشی حالات کا ناگزیر تقاضا ہے۔ ریاست ٹیکس کے بغیر نہیں چل سکتی ٹیکسوں سے تمام ترقیاتی و غیر ترقیاتی منصوبے مکمل کئے جاتے ہیں دفاعی اور صنعتی منصوبے ٹیکسوں ہی کے مرہون منت ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ٹیکس نہیں ملیں گے تو سڑکیں، اسپتال، اسکول، کالج، پانی، بجلی اور اس طرح کی دوسری سہولتیں کیسے ملیں گی؟ ملک کے اقتصادی حالات کا تقاضا ہے کہ جو لوگ قابل ٹیکس آمدنی کے حامل ہیں وہ نیک نیتی سے ٹیکس ادا کریں۔ ملک کو معاشی لحاظ سے اپنے پائوں پر کھڑا کرنے اور غیر ملکی قرضوں سے نجات کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

اداریہ روزنامہ جنگ
 

Post a Comment

0 Comments