All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

عالمی مالیاتی ادارے مسیحا یا

50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں! پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی مہم اس دلفریب اور پرکشش نعروں سے شروع کی کہ عوام بھی یقیناً اس سے بہت متاثر ہوئے۔ لیکن اہل عقل سوال کرتے ہیں کہ وہ ملک جس کی حکومت کا میزانیہ (Budget) ہمیشہ خسارہ میں رہتا ہے۔ اس خسارہ کو پورا کرنے کے لیے جگہ جگہ جا کر قرضوں کی بھیک مانگنی پڑھتی ہے اور پھر انتہائی " سخت شرائط" پر قرضوں کی وصولی ممکن ہوتی ہے۔ جس میں بلند شرح سود، یوٹیلیٹی بلز میں ہوشربا اضافہ، پٹرول میں بلاجواز اضافہ اور سیلزٹیکس کے نام پہ قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ شامل ہیں۔ آج تک ایک بات سمجھ نہ آسکی۔ عالمی معاشی فورمز پہ جب بھی گفتگو ہوتی ہے۔ تو یہ بتایا جاتا ہے کہ " دنیا کو غربت سے پاک" کرنا ہے۔ غیرمنصفانہ تقسیم دولت کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔

لیکن جب یہی عالمی معاشی ادارے کسی ملک کی مشکل معاشی حالات میں مدد کرنے میدان میں اترتے ہیں تو سب سے پہلے فورمز میں کی جانے والی گفتگو اور وہاں پر متعین کرنے والے اہداف بھول جاتے ہیں۔ اور معاشی طور پر مجبور ملک کو ہر وہ پالیسی اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیں جس سے غربت میں اضافہ ہو اور دولت کا ارتکاز ممکن ہو سکے۔ تبھی یہ ادارے اپنے قرضوں کی واپسی کو ممکن بنانے کے لیے یہ کیوں نہیں کہتے کہ حکومت اپنی شاہ خرچیاں 50 فیصد کم کر دے، کابینہ، مقننہ میں موجود افراد پر ہونے والے خرچے غیرضروری ہیں انہیں کم کیا جائے نیا پارلیمنٹ ہاؤس یا سیکریٹریٹ قائم نہ کیا جائے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی ذرا مقننہ کااجلاس دیکھیں۔ ممبر اسمبلی یا سینیٹ کی سیٹیں ایک دوسرے سے چپکی ہوئی ہوتی ہیں۔ چلنے کی جگہ تک نہیں ہوتی ہے۔ ہال بھی بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں 72 سالوں میں اب تک تین دفعہ پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر ہو چکی ہے۔ مرمت اور زیبائش کے سالانہ اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ 

اور تو اور صوبائی اسمبلیاں بھی پیچھے نہ رہیں۔ تقریباً صوبہ میں نئی اسمبلیاں تعمیر ہو چکی ہیں۔ جہاں سال میں کتنے دن اجلاس ہوتا ہے؟ اور کتنی قانون سازی؟ اور سالانہ اخراجات کا بل کتنا ہوتا ہے؟ سادگی (Austerity ) کی تعریف میں نہیں آتا؟ بالکل اسی طرح تقریباً تمام عوامی اداروں میں " سرکلر ڈیٹ" ایک درد سر بنا ہوا ہے کیا وجہ ہے کہ جب ہر ادارے کا اپنا الگ بجٹ مختص ہوتا ہے اور اس میں بجلی کے بل کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں تو ایسے میں " سرکلر ڈیٹ" کا پہاڑ ہر سال موجود ہونا عالمی اداروں کی نظر سے نہیں گزرتا کہ اس پہ اعتراض کریں کہ جو عوامی ادارے بجلی کے بل کے ڈیفالٹر ہوں کے ایک مخصوص مدت کے بعد اور مختلف کارروائی کے بعد انہیں نجی شعبہ کے حوالے کر دیا جائے گا یا حکومت کو دھمکایا جائے کہ اگر یہ حکومتی ادارے سرکلرڈیٹ کو ختم نہیں کریں گے تو عالمی مالی ادارے حکومت وقت کو اگلے قرضوں کی قسط روک لیں گے۔ لیکن یہ سب راقم کی خواہش ہے۔ 

عالمی مالی اداروں کو اس سے کیا غرض! انہیں تو اس میں فائدہ نظر آتا ہے کہ حکومت غیرضروری اخراجات کرے تاکہ اس کا بجٹ خسارہ بڑھے یوں حکومتیں کشکول لیکر ان اداروں کی خدمت میں حاضر رہیں۔ یعنی ان عالمی مالی اداروں کی زندگی / موجودگی ہمارے جیسے غریب بلکہ غریب سے زیادہ غیرمنصوبہ ساز ملکوں پہ منحصر ہے کہ وہ اپنا بجٹ خسارہ بڑھاتی جائیں۔ ایسے میں یہ ادارے مسیحا تو نہ ہوئے؟ اب بھی وقت ہے حکومتی افراد آگے آئیں اور عالمی اداروں کے نامزد افراد کے ہاتھوں سے معیشت کی باگ ڈور واپس لیکر ملکی معیشت کو صحیح خطوط پہ استوار کریں گھر اور نوکری کی لالی پاپ کے بجائے " آزاد سرمایہ کارانہ" فضا پیدا کریں Cost of doing businees بزنس کی لاگت کو بنیادی ڈھانچہ کی لامحدود فراہمی سے کم کریں خودبخود نوکریاں بھی فراہم ہونے لگیں گی اور گھر بھی بنانا شروع ہو جائیں گے۔ غربت میں بھی کمی آئے گی۔ "لیکن شرط مضبوط ارادے " کی ہیں۔

سید منہاج الرب

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments