All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

پاکستان میں ٹیکس کا دائرہ کیسے بڑھائیں ؟

ہر ذی شعور جانتا ہے کہ 31 ہزار ارب روپے کے غیر ملکی قرضوں تلے دبی قومی معیشت کو اس نہج پر پہنچانے میں مطلوبہ ٹیکس وصولی میں ناکامی کا بڑا دخل ہے لیکن مقام افسوس ہے کہ ماضی کی کوئی بھی حکومت سب کچھ جانتے ہوئے بھی معیشت کو اس دلدل سے نکال نہیں سکی۔ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کے لئے بھی یہ صورتحال ایک کڑا امتحان ہے۔ وفاقی مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے لاہور میں صنعتکاروں اور تاجروں کے اجلاس سے اپنے خطاب میں یہ بات واضح کی ہے کہ حکومت موجودہ حالات میں مراعات دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی، لہٰذا کچھ عرصہ کے لئے ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرنا ہو گا۔ 

مشیر خزنہ کے اس بیان کے حوالے سے یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ جو افراد پہلے ہی نیک نیتی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں ان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو ممکنہ حد تک وسعت دینے کی ضرورت ہے کیونکہ 22 کروڑ کی آبادی میں سے محض 20 لاکھ افراد ہی ٹیکس دہندہ ہیں۔ اسی طرح بجلی کے کمرشل کنکشن رکھنے والے 31 لاکھ میں سے 90 فیصد تاجر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں جیسا کہ مشیر خزانہ نے بھی یہ بات تسلیم کی کہ ٹیکس اہداف پورے نہ ہونے کی وجہ سے بجلی اور گیس مہنگی کرنا پڑتی ہے جبکہ یہ صورت حال ملک کی 70 فیصد مہنگائی کی شکار تنخواہ دار اور اجرت دار آبادی کے بس سے باہر ہے۔ 

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آنے والے حکومتی اقدامات کے تحت نان فائلر صنعتکاروں کے گیس اور بجلی کے کنکشن کاٹ دیے جائیں گے۔ اس حوالے سے تقریب میں شریک وزیر مملکت میاں حماد اظہر کی یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ ایف بی آر میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ ایک روز قبل خود چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی وزیراعظم عمران خان کو اپنے خط میں موجودہ ٹیکس نظام کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے اسے معیشت کے لئے سنگین خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ ان حالات کے تناظر میں وقت کا تقاضا ہے کہ محاصل کا ایک ٹھوس اور دور رس نتائج کا حامل پروگرام تشکیل دیا جائے جو آنے والی نسلوں کو قرضوں سے پاک معیشت دے سکے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments