All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

پٹرول نرخوں میں اضافہ کب تک؟

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باوجود پاکستان میں تقریباً ہر ماہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور یوں کم و بیش 95 فی صد آبادی کے لیے زندگی روز بروز مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ وفاقی حکومت نے پیٹرول ، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اس تازہ ترین اضافے کا اعلان اس وقت کیا ہے جب عید الفطر کی آمد میں محض چند روز باقی ہیں اور گزشتہ دس ماہ میں مہنگائی میں تقریباً دس فی صد اضافے نے اُن کے ہوش پہلے ہی اُڑا رکھے ہیں۔ دوسری جانب خلیجی ملکوں میں اپریل کے اواخر سے مئی کی آخری تاریخوں تک تیس دن کی مدت میں تیل کے نرخوں کا گراف سات فی صد نیچے آیا ہے اور ایک ماہ پہلے 72 ڈالر فی بیرل ملنے والا تیل 67 ڈالر فی بیرل میں دستیاب ہے۔ 

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ گراوٹ کا سبب عالمی سطح پر تجارتی کشیدگی ہے اور اس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں مزید گرنے کا امکان ہے۔عالمی سطح پر تیل کے نرخوں میں واضح کمی کے مسلسل رجحان کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے ہر مہینے زیادہ مہنگے ہوتے چلے جانے کا معاملہ حکومت اور تمام متعلقہ اداروں کی فوری توجہ کا طالب ہے کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ ہر قسم کی زرعی اور صنعتی پیداوار کی لاگت اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے کی شکل میں برآمد ہوتا ہے لہٰذا اس کے بعد مہنگائی ایک نیا طوفان کروڑوں پاکستانیوں کی لیے زندگی مزید مشکل بنا دیتا ہے اور ان کی محرومیاں پہلے سے زیادہ ہوتی چلی جاتی ہیں۔

حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ یہ سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا اور عوامی احتجاج اور اشتعال کی صورت میں اس کا ردعمل آخر کب تک روکا جا سکے گا۔ پٹرولیم مصنوعات پر بھاری بالواسطہ ٹیکسوں کا عائد ہونا ان کے نرخ کو اصل قیمت خرید سے کم وبیش دگنا کر دیتا ہے۔ اگر ملک میں براہ راست انکم ٹیکس کی وصولی جو ابھی صرف ایک فی صد آبادی تک محدود ہے، خاطر خواہ طور پر بڑھ جائے تو یہ بالواسطہ ٹیکس ختم کیے جا سکتے اور پٹرول ہی نہیں تمام اشیائے صرف کی قیمتوں میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ 

اس ضمن میں چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی کی جانب سے گزشتہ روز وزیر اعظم کو لکھا گیا خط جس میں ٹیکس دینے سے کاروباری طبقے کے گریز کا بنیادی سبب موجودہ ٹیکس سسٹم کو قرار دیتے ہوئے اس نظام کو ناقابل عمل بتایا گیا ہے. حکومت اور ملک کے تمام پالیسی ساز اداروں کی توجہ اور فوری اقدامات کا متقاضی ہے۔ ہماری معیشت جس دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، اس سے نکلنے کے لیے بنیادی اصلاحات اور اقدامات ناگزیر ہیں اور ٹیکس سسٹم کا درست کیا جانا اس میں اولین اہمیت کا حامل ہے۔علاوہ ازیں سامان تعیش اور ایسی تمام درآمدات پر پابندی لگا کر جن کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں ، ہم اپنا توازن ادائیگی بہت کم وقت میں بہتر بنا سکتے اور روپے کی قدر بڑھا سکتے ہیں جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں کمی کا فائدہ عام صارفین تک آسانی سے منتقل کرنا ممکن ہو گا۔

اداریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments