وزیراعظم عمران خان نے عوام کے نام جاری کئے گئے وڈیو پیغام میں نان ٹیکس فائلرز سے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی جو اپیل کی وہ مذکورہ اشخاص کو تادیبی کارروائی سے بچانے کے علاوہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے میں بھی معاون ہو گی۔ اس اسکیم کے تحت نان ٹیکس فائلرز اندرون و بیرونِ ملک مختلف ناموں سے بنائی گئی (بے نامی) جائدادیں اور بینک کھاتے ظاہر کر سکتے ہیں جن کا موجودہ دستیاب ٹیکنالوجی اور بعض ملکوں سے کئے جانیوالے معاہدوں کی بدولت مزید پوشیدہ رہنا اب پہلے کی طرح آسان نہیں رہا۔
دنیا بھر میں ٹیکس کلچر کے باعث ایسے ایسے ملکوں نے بھی فلاحی ریاست کا روپ دھار لیا جنہیں نہ تو پاکستان کی طرح سربفلک پہاڑ، وسیع صحرا، خوبصورت مناظر سے بھرپور مقامات، دریا اور سمندر جیسی نعمتیں میسر ہیں نہ وہ قدرتی وسائل پر دسترس رکھتے ہیں۔ وطن عزیز میں 22 کروڑ ابادی کی ضروریات کیلئے صرف ایک فیصد فائلرز کے محصولات جمع ہوتے ہیں جن سے کوئی بھی ملک ترقی کرنا تو درکنار اپنے عوام کی لازمی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتا۔ چنانچہ روزمرہ کے حکومتی اخراجات سمیت مختلف ضروریات کیلئے قرضے لینا پڑتے ہیں جن کا ملکی معیشت پر مزید منفی اثر مرتب ہوتا اور عوام کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ایک فیصد ٹیکس دہندگان میں بھی بڑی تعداد ایسے ملازمت پیشہ افراد کی ہے جن کی تنخواہوں کی ادائیگی کے وقت ہی انکم ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہماری قومی زندگی کے تمام حلقوں، بالخصوص وسائل پر قابض اشرافیہ کو ٹیکس کلچر کی طرف لایا جائے۔ پاکستان میں مخیر افراد ایسے اداروں کو فراخ دلی سے عطیات دیتے ہیں جن کی کارکردگی سے غریبوں کی حالت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اب وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ ٹیکس کا پیسہ عوام اور ملک پر خرچ ہو گا تو اس باب میں سب کو بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہئے۔ ٹیکس ایمنسٹی سے نہ صرف فائدہ اٹھایا جانا چاہئے بلکہ اس موقع کو ملکی خدمت کی طرف پیش قدمی کا حصہ بھی سمجھا جانا چاہئے۔
0 Comments