آج کے جدید دور میں اگر کسی ملک کو تباہی سے دوچار کرنا یا اُس کے وسائل پر
قابض ہونا مقصود ہو تو یہ عمل میزائل اور ٹینکوں پر چڑھ کر حاصل نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ ہدف اُس ملک کی معیشت کو تباہ کرنے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ، اسرائیل، بھارت اور دیگر مغربی ممالک کی روزِ اول سے یہ خواہش ہے کہ کسی طرح پاکستان کو جوہری صلاحیت سے محروم کر کے اُسے ڈی نیوکلیئرائز کیا جائے مگر خوش قسمتی سے ماضی میں اِس سلسلے میں کئے گئے مغربی طاقتوں کے گھنائونے منصوبے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکے تاہم اب یہ دشمن طاقتیں اپنے اہداف اکنامک ہٹ مین (معاشی قاتل) کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو تباہی سے دوچار کر کے حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
گزشتہ دنوں مجھے دنیا کے مشہور ہٹ مین جان پرکنز کی سوانح عمری Confessions of an Economic Hitman پڑھنے کو ملی۔ جان پرکنز نے اپنی کتاب میں یہ انکشاف کیا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے پسماندہ ممالک کو قرضے دے کر اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور اُن کی معیشتوں کو گروی رکھ لیتے ہیں۔ اِس مقصد کیلئے یہ مالیاتی ادارے ہٹ مین کے ذریعے پسماندہ ممالک کی لیڈرشپ کو قائل کرتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر عالمی مالیاتی اداروں سے بڑی رقوم قرض لیں۔ جان پرکنز کے بقول عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے مالیاتی ادارے معاشی قاتلوں کا موثر آلہ ہیں جو قدرتی وسائل سے مالا مال پسماندہ ممالک کیلئے عالمی بینک، آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے بڑے قرضوں کا بندوبست کرتے ہیں۔
اِن قرضوں کا ایک بڑا حصہ مغربی مشاورتی کمپنیوں کی کنسلٹنسی فیس کی مد میں ادا کر دیا جاتا ہے اور پھر پاور ہائوس، انفرا اسٹرکچر اور انڈسٹریل پارک جیسے ترقیاتی منصوبے بھی مغربی کمپنیوں کو دے دیئے جاتے ہیں جبکہ اِن قرضوں سے ہونے والی کرپشن بھی لوٹ کر واپس مغربی ممالک پہنچ جاتی ہے۔ اِس طرح یہ پسماندہ ممالک قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں جنہیں وہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ بالآخر اِن ممالک کو عالمی مالیاتی اداروں کی ہر شرائط ماننا پڑتی ہیں، پھر یہ ادارے اُن ممالک کے حکمرانوں کو نادہندگی سے بچنے کیلئے قرضے ری اسٹرکچر کرنے کی تجویز دیتے ہیں اور اِس طرح قرضوں کی ادائیگی کیلئے مزید نئے قرضے دے کر عالمی مالیاتی اداروں کو اُن ممالک کی معیشت گروی بنانے کا موقع مل جاتا ہے۔
ایسی صورتحال میں اُن ممالک کے قدرتی وسائل، تیل، گیس اور معدنی وسائل پر مغربی طاقتوں اور مالیاتی اداروں کی ملٹی نیشنل کمپنیاں کنٹرول حاصل کر لیتی ہیں جبکہ اُن ممالک کو مغربی ممالک اپنے فوجی اڈوں کے قیام اور اُن کے راستے دفاعی اشیاء کی آمد و رفت جیسے معاہدے کرنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔ جان پرکنز کی کتاب پڑھ کر جب میں نے اُس کا موازنہ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال سے کیا تو مجھے دونوں میں بڑی مماثلت نظر آئی۔ آج کل پاکستان کے گرد بھی آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے معاشی قاتل گھیرا تنگ کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق بنا رہے ہیں۔
اِن مالیاتی اداروں کی یہ منصوبہ بندی ہے کہ پاکستان کے قرضے جب 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں اور پاکستان کی معیشت میں اتنی سکت نہ رہے کہ وہ یہ قرضے یا اُن کا سود ادا کر سکے اور اگر پاکستان ڈیفالٹ ہوتا ہے تو امریکہ، آئی ایم ایف کے ذریعے ایسے بیل آئوٹ پیکیج کی پیشکش کرے گا جس کے بدلے میں پاکستان کو اپنے نیوکلیئر پروگرام پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ بلومبرگ جیسے معاشی ریٹنگ کے ادارے پاکستان کی معاشی صورتحال کی اچھی پیش گوئی کر رہے تھے مگر شاید پاکستان کی ترقی مغربی طاقتوں کے مفاد میں نہیں تھی اور پھر وہ معیشت جو ترقی کی جانب گامزن تھی، گراوٹ کا شکار ہوتی چلی گئی۔ پی ٹی آئی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد پاکستان آئی ایم ایف سے 15 ارب ڈالر کے قرضے لینے کے بہت قریب پہنچ چکا تھا اور امکان تھا کہ امریکہ آئی ایم ایف کے ذریعے اپنے گھنائونے منصوبوں میں کامیاب ہو جاتا.
مگر دوست ممالک سعودی عرب، یو اے ای اور چین کی بروقت 9 ارب ڈالر کی امداد سے ہم امریکہ اور آئی ایم ایف کے بچھائے ہوئے جال سے وقتی طور پر بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تاہم آج ایک بار پھر آئی ایم ایف پاکستان کو قرضوں کے چنگل میں جکڑنے میں کوشاں نظر آرہا ہے۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران وزیرِ خزانہ اور معاشی ٹیم کو تبدیل کرنا اور آئی ایم ایف سے منسلک افراد کو لانا شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آئی ایم ایف کو امریکی اور ان مغربی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہے، جن کی آنکھوں میں پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام اور سی پیک منصوبہ شروع دن سے کھٹک رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی اکنامک مینجمنٹ کو آئوٹ سورس کرنا اور آئی ایم ایف سے مزید قرضے لینا ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جائے اور ہمیں اپنے نیوکلیئر اثاثوں پر سمجھوتہ کرنا پڑے۔
0 Comments