All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

معیاری ٹیکس نظام : پاکستان کے معاشی مسائل کا پائیدار حل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سربراہ کی حیثیت سے سید شبر زیدی نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے حکم نامے میں اپنے ادارے کے اہلکاروں کو ٹیکس گزاروں کو ہراساں نہ کرنے کی تاکید کر کے حکومت اور ٹیکس دہندگان کے درمیان خوف اور دہشت کے بجائے اعتماد اور تعاون کا رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے جو فی الواقع ایک اچھا آغاز ہے۔ ایف بی آر افسران سے اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس گزاروں کو سہولتیں فراہم کرنے کیلئے مکمل خودکار نظام کی ضرورت ہے۔ محصولات میں اضافے کی خاطر تمام لین دین کا دستاویزی بنایا جانا بھی انہوں نے لازمی قرار دیا کیونکہ قومی معیشت کا بیس سے تیس فیصد کالے دھن پر مشتمل ہے اور معیشت کو دستاویزی بنائے بغیر اسے ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جا سکتا۔ 

دستاویزی معیشت کی ضرورت کا اظہار تو عشروں سے کیا جا رہا ہے لیکن عملی پیش رفت اب تک بڑی مایوس کن ہے۔ یہ منزل سید شبر زیدی کے دور میں سر کر لی گئی تو یقیناً ایک بڑا کارنامہ ہو گا اور اس کے باعث ٹیکس وصولی میں لازمی طور پر کئی گنا اضافہ ہو جائے گا جبکہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی طرح ٹیکس وصولی کے جس خود کار نظام کی ضرورت کا اظہار چیئرمین ایف بی آر نے اپنے پہلے خطاب میں کیا ہے اس کے روبہ عمل آنے سے ٹیکس دہندگان بدعنوان اہلکاروں کے ہتھکنڈوں اور استحصال سے محفوظ رہتے ہوئے ٹیکس کی ادائیگی کر سکیں گے۔ نظام میں مذکورہ حوالوں سے بہتری لانے کے عزم کے ساتھ ساتھ انہوں نے خوشگوار ماحول میں محکمے کے افسران کے مسائل بھی کے سنے اور ان کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے تسلیم کیا کہ اہلکاروں کے تعاون کے بغیر کسی قسم کی اصلاح و ترقی ممکن نہیں۔

بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں اپنی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے ٹیکس دہندہ کے احترام کو بجا طور پر سب سے پہلی ضرورت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انہوں نے افسروں کو ٹیکس گزاروں کو خوف زدہ کرنے سے روک دیا ہے۔ ان کے بقول ٹیکس دہندہ کے ایف بی آر کے ساتھ بہت سے تنازعات ہوتے ہیں جن میں ٹیکس گزار کے بینک اکاؤنٹس تک منجمد کر دیئے جاتے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر نے صراحت کی کہ اس کارروائی کا قانونی اختیار اگرچہ ادارے کو حاصل ہے لیکن انہوں نے ہدایت کی ہے کہ ایسا کرنے سے پہلے چیئرمین ایف بی آر سے اجازت لی جانی چاہئے اور متعلقہ فرد یا ادارے کے سربراہ کو بلا کر چوبیس گھنٹے پہلے باقاعدہ اطلاع دی جانی چاہئے کہ اگر مطلوبہ اقدامات نہ کیے گئے تو ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے جائیں گے۔ 

ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنا بلاشبہ ٹیکس وصولی کے ہمارے مروجہ طریق کار کا جزو لاینفک ہے جس کے باعث شہریوں کے لیے ٹیکس کی ادائیگی ایک ڈراؤنا خواب بن گئی ہے لہٰذا جو لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں وہ اس سے باہر ہی رہنا چاہتے ہیں کیونکہ عام تاثر یہ ہے کہ جو شخص ایک بار اس جال میں آگیا، اُسے ناجائز طور پر تنگ کرنے کے سنہری مواقع ٹیکس وصول کرنے والوں کو فراہم ہو جاتے ہیں۔ خوف کا یہ ماحول ختم ہو، تمام لین دین خودکار اور شفاف نظام کے تحت انجام پائے جس میں اہلکاروں کی کسی بے جا مداخلت کی گنجائش نہ ہو نیز متعلقہ اداروں اور ٹیکس گزاروں کے درمیان اعتماد اور احترام کا رشتہ پوری طرح قائم ہو جائے اور ٹیکس دینے والے معاشرے میں معزز اور محترم قرار پائیں تو محصولاتی آمدنی اور ٹیکس گزاروں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ یقینی ہے۔ 

عالمی بینک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں اس حقیقت کی نشان دہی کی ہے کہ پاکستان کو محصولاتی آمدنی مطلوبہ سطح کے حصول کے لیے موجودہ ٹیکسوں کی شرح بڑھانے یا نئے ٹیکس لگانے کی نہیں، صرف ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ضرورت ہے جس کی ملک میں پوری گنجائش موجود ہے۔ معیاری ٹیکس نظام بلاشبہ ہمارے معاشی مسائل کا واحد پائیدار حل ہے اور ملک کی ترقی و خوشحالی ہی نہیں بلکہ بقا و سلامتی کے لیے بھی اس کا وجود میں لایا جانا اب بالکل ناگزیر ہو چکا ہے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments