حکومت ملکی معیشت کی بحالی کے لئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرضے کے حصول کے سلسلے میں گزشتہ کئی ماہ سے جوکوششیں کر رہی تھی وہ بالآخر رنگ لائی ہیں اور واشنگٹن میں آئی ایم ایف حکام سے وزیر خزانہ اسد عمر کے تفصیلی مذاکرات کے بعد پاکستان کے لئے 6 سے 8 ارب ڈالر کے قرضے زرمبادلہ کی شرح، مالیاتی خسارے، بجلی اور توانائی کے دوسرے ذرائع کے نرخوں، سرکاری اداروں کی بحالی اور وفاقی بجٹ کے حوالے سے ایک جامع بیل آؤٹ پیکج طے پا گیا ہے۔ اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے ساتھ ایک معاہدے کوحتمی اور دستاویزی شکل دے دی گئی ہے جبکہ تکنیکی تفصیلات طے کرنے کے لئے عالمی ادارے کا ایک وفد اسی ماہ کے آخری ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرے گا۔
وزیرخزانہ نے امریکہ سے واپسی پر وزارت خزانہ کی قائمہ کمیٹی اور بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے فوراً بعد ملٹی لیٹرل اداروں سے رکے ہوئے فنڈ بھی ملنا شروع ہو جائیں گے اور آئی ایم ایف کے علاوہ ورلڈ بنک سے7 سے 8 ارب ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بنک سے 6 ارب ڈالر ملیں گے۔ اس طرح آئندہ تین سال میں پاکستان کو مجموعی طور پر 22 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے۔ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر 2016 سے جاری دباؤ کم ہو گا، انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کوہماری ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر اعتراض ہے نہ اس نے دفاعی بجٹ میں کمی سے متعلق کوئی شرط عائد کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت میں اضافے کی کوئی تجویز نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ چیزیں مہنگی ہوں گی لیکن عام آدمی متاثر نہیں ہو گا۔ اب ہم معاشی بحران سے نکل آئے ہیں اوراستحکام کے مرحلے میں ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے لئے حالات سازگار ہیں۔ اصلاحات پر کام ہو رہا ہے اور حکومت درست سمت میں جارہی ہے۔ شرح سود 9 سے کم ہو کر 7 فیصد پر آگئی ہے اور فنانشل مانیٹرنگ نظام میں پہلے سے بہتری آئی ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا وفد پاکستان آکرخود صورت حال کا معائنہ کرے گا۔ وزیر خزانہ نے حکومت کا یہ عمومی موقف دہرایا کہ سابقہ حکومت معیشت کو جس حالت میں چھوڑ کر گئی اس کی بہتری اوربحالی کے فیصلوں سے عوام متاثر ہوئے ہیں۔
اقتصادی مبصرین سوال کرتے ہیں کہ حکومت کب تک اس بیانیے کے پیچھے چھپے گی اور اس کے اپنے معاشی اقدامات کب عوام کو ریلیف مہیا کریں گے؟ اسد عمر نے یہ تو بتایا کہ آئی ایم ایف اور دوسرے ادارے پاکستان کو 22 ارب ڈالر قرضے دیں گے لیکن ان قرضوں کی شرائط کھل کرنہیں بتائیں، صرف یہ کہا کہ کچھ چیزیں مہنگی ہوں گی لیکن عام آدمی متاثر نہیں ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ جب چیزیں مہنگی ہوں گی تو عام آدمی ان کے اثرات سے کیسے بچے گا ؟ پہلے ہی اشیائے خوردنی اور ادویات کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اورغریب اور متوسط طبقے کی قوت خرید دم توڑ رہی ہے اصلاحات کے نام پر ٹیکسوں میں اضافہ اور دوسرے اقدامات کئے جائیں گے تو اس کا اثر تو بالآخر عام صارفین پر ہی پڑنا ہے۔
اسٹیٹ بنک کے مطابق ملک کے سرکاری قرضوں میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری ہے جن کا حجم رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 10 فیصد اضافے کے ساتھ ساڑھے27 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے ملکی وبیرونی قرضوں کا بہاؤ تقریباً دوگنا ہو گیا ہے جس کی بڑی وجہ روپے کی قدر میں ہونے والی مسلسل کمی ہے۔رئیل اسٹیٹ ویلیو ایشن نے پراپرٹی بزنس کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے اور اسٹاک ایکسچینج گر رہی ہے۔ ایسے میں معاشی استحکام کی منزل ابھی توقع سے زیادہ دور دکھائی دیتی ہے۔ عالمی اداروں کے علاوہ حکومت دوست ملکوں سے بھی قرضے لے رہی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بیرونی قرضے ملکی معیشت کے لئے ناگزیر ہیں مگر فی الحال عوام مہنگائی کے جس طوفان کا مقابلہ کر رہے ہیں اس کی شدت میں کمی لانے کے لئے حکومت کو سنجیدہ اور موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
0 Comments