برادر اسلامی ملک ترکی کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ مذہبی، ثقافتی، تجارتی، سفارتی اور عسکری تعلقاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں برصغیر کے مسلمان ترکی کی ہر طرح سے امداد میں پیش پیش تھے اور ترکی بھی ان سرفہرست ممالک میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کیا۔ وطنِ عزیز کے قیام کے فوراً بعد ایران، ترکی اور پاکستان کی باہمی تنظیم ریجنل کارپوریشن ڈویلپمنٹ (آر سی ڈی) اس دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ترکی کے خلوصِ نیت کا تازہ ترین ثبوت بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں اس کا کھل کر پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ترکی نے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لئے وسیع پیمانے پر تعاون بڑھانے کا جو فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے ترکی نے اسٹرٹیجک اکنامک فریم ورک کیلئے اپنی تجاویز بھیجی ہیں جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے سات جوائنٹ ورکنگ گروپ بنائے جائیں گے۔ تجارت، سیاحت، صحت، مہمان نوازی کی صنعت، تعلیم، ہائوسنگ، زراعت، ایوی ایشن اور بینکنگ کے شعبوں میں باہمی تعاون کا فروغ اس کے بڑے اہداف ہیں۔ اس وقت دونوں ملکوں میں تجارت کا حجم 90 کروڑ ڈالر ہے جسے پانچ گنا بڑھایا جائے گا جس کے لئے دونوں ممالک رواں برس میں آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کریں گے۔
یہ ایک نہایت خوش آئند اور باعث فخر پیشرفت ہے۔ اس وقت پاکستان اپنے اس برادر ملک سے ٹرانسپورٹ، ٹیلی کمیونیکیشن، مینو فیکچرنگ، کیمیکلز اور دوسری صنعتوں میں استفادہ کر رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان سے ترکی برآمدات کی جانے والی اشیا میں چاول، چمڑا، ٹیکسٹائل، فیبریکس، کھیلوں اور جراحی کا سامان سرفہرست ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان فریٹ ٹرینوں کے ساتھ ساتھ مسافر گاڑی چلانے کیلئے بھی راہ ہموار کی جائے۔
0 Comments