چین نے ایک مرتبہ پھر اپنے قریبی دوست پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی پالیسی کو ایسے وقت میں سراہا ہے جب اسلام آباد کو عسکریت پسندوں کو پناہ دینے جیسے الزامات کا سامنا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے گزشتہ روز اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’چین پاکستان کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہتا ہے۔‘‘ وانگ ژی نے مزید کہا کہ چین دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مہم کی پوری طرح حمایت کرتا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ماہ کی پانچ تاریخ سے پاکستانی انتظامیہ نے کئی مشتبہ عسکریت پسندوں کو حراست میں لیا ہے اور عسکریت پسندوں سے منسلک قریب سات سو مدرسوں، مساجد اور طبی ادروں کو بند کر دیا ہے۔
وانگ ژی نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو بتایا، ’’ہم بین الاقوامی کمیونٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے عزائم اور گزشتہ کئی برسوں میں اس کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کو منصفانہ انداز میں دیکھے ۔ ‘‘ چین نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کو روک دیا تھا۔ یہ چوتھی مرتبہ ہے جب چین نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ دورہ بیجینگ کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں چین کی حمایت کا شکر گزار ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے دہشت گردی کے خلاف کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں، ہم نے اس سفر میں بہت قربانیاں دی ہیں۔‘‘
0 Comments