ملک میں جنگلات کی شرح میں اضافے کیلیے بلین ٹری سونامی سمیت گرین پاکستان پروگرام تیزی سے جاری ہے تاہم ان اقدامات کے نتیجے میں جنگلات کی شرح میں کس قدر اضافہ ہوا ہے اس کا کوئی مستند ڈیٹا تاحال مرتب نہیں ہو سکا۔ سابق حکومت نے سال 2017 کے دوران ریڈ پلس پروگرام کے تحت ملک میں جنگلات کی تعداد کا مستند ڈیٹا تیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ(ڈبلیو ڈبلیو ایف)، فن لینڈ کی آربوناٹ نامی کمپنی اور تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر سروے کا آغاز کیا تھا۔ جنگلات کی تعداد کا مستند ڈیٹا لینے کیلیے سٹیلائٹ کے ذریعے ہائی ریزولوشن امیج حاصل کیے گئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ سروے کے مطابق ملک میں جنگلات کی مجموعی تعداد میں 0.6 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے تاہم اس کے اعداد وشمار پر اختلافات سامنے آنے کے بعد اس ڈیٹا کو حتمی منظوری نہ مل سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سروے رپورٹ کے اعداد و شمار کو نظر ثانی کیلیے صوبوں کو بھیجا گیا ہے، اعداد و شمار پر اختلافات اور تحفظات دور ہونے کے بعد رپورٹ کو حتمی منظوری کے بعد پبلک کیا جائے گا۔ حالیہ تازہ سروے کے مطابق ملک میں جنگلات کی شرح کل اراضی کا 5.7 فیصد دکھایا گیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں سال 2004 اور 2011 کے دوران سروے کے مطابق ملک میں جنگلات کی شرح کل اراضی کے5.1 فیصد ظاہر کی گئی تھی تاہم سابقہ ادوار کی سروے رپورٹ عالمی اور قومی سطح پر تسلیم نہیں کی گئی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی تنظیم برائے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر 16 لاکھ 17 ہزار ہیکٹر رقبے پر جنگلات موجود ہیں جو ملک کی کل اراضی کا محض2.2 فیصد بنتا ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان فاریسٹ انسٹی ٹیوٹ پشاور کی جانب سے 2011 کے دوران جنگلات کی صورت حال کے حوالے سے مرتب شدہ لینڈ کور اٹلس آف پاکستان کے مطابق مجموعی طور پر45 لاکھ 49507 ہیکٹر ارضی پر جنگلات موجود ہیں جو پاکستان کے کل رقبے کا5.1 فیصد بنتا ہے۔
0 Comments