All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

پاکستان کی معیشیت 2 ٹریلین تک پہنچ سکتی ہے : عالمی بینک

عالمی بینک نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر پاکستان تسلسل کے ساتھ مناسب اصلاحات کرے تو اس کی معیشیت کا حجم اگلے اٹھائیس سالوں میں دو ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ 'پاکستان ایٹ 100 شیئرنگ دی فیوچر‘ رپورٹ کے اجراء کے موقع پر پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر پاٹچھا موتھولو لانگوان نے کہا کہ پائیدار اصلاحات کے ساتھ اگلے اٹھائیس سالوں میں جب پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے 100 ہو جائیں گے تو یہ ملک دو ٹریلین کی معیشیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں عالمی بینک کے سربراہ نے مزید کہا کہ دو ٹریلین کی معیشیت کا مطلب ہے کہ ایک ’ اپر مڈل انکم‘ ملک میں فی کس آمدنی 5702 ڈالر ہو گی لیکن اس کی اولین شرطوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس ملک کی آبادی میں کمی کے ذریعے سال 2047 تک 1.2 فیصد تک لانا ہو گا۔

عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کو تجویز پیش کی ہے کہ بچوں کی نشو ونما، صحت اور غذائی معیار کو بہتر بنانا ہو گا۔ عالمی بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان جہاں تعلیم پر سالانہ بجٹ کا صرف دو فیصد خرچ کرتا ہے اور صحت پر صرف ایک فیصد اس ملک میں تعلیم پر بجٹ کا پانچ فیصد اور صحت پر بجٹ کا دو فیصد مختص کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو زراعت کے شعبے میں پانی کی فراہمی کے نظام میں خاطر خواہ بہتری لانا ہو گی۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس وقت پاکستان کی آمدنی کا کل 13 فیصد حصہ ٹیکس سے حاصل کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کو ٹیکس اصلاحات کرتے ہوئے اس تناسب کو 20 فیصد تک لے جانا ہو گا۔ گورننس کے حوالے سے عالمی بینک نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ یہاں سیاست دانوں کی جانب سے شہریوں کی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی کے لیے کیے گئے کاموں کو عوامی سطح شفاف انداز میں پیش کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ بجٹ کی دستاویزات کو بھی مزید شفاف بنایا جائے۔ اس وقت پاکستان کی معیشیت سست روی کا شکار ہے اور ملک پر آئی ایم سے قرضہ لینے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں بھی کمی آئی ہے۔ ایک امریکی ڈالر کی قدر قریب پاکستانی 139 روپوں کے برابر ہو گئی ہے۔

Post a Comment

0 Comments