All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

کیا حکومت ڈاکٹر عافیہ کو رہائی دلوا سکتی ہے؟

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی سودے بازی کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ 2010 سے امریکا میں قید ہیں اور انہیں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ تاہم شاہ محمود قریشی نے یقین دلایا ہے کہ انکی حکومت سفارتی چینلز کے ذریعے انہیں واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ کیا وہ کسی قسم کی سودے بازی یا تحویل مجرم معاہدے کے بغیر ایسا کر سکتے ہیں؟ پاکستان کی طرف سے اس حوالے سے کی جانیوالی باقاعدہ درخواست پر امریکی ردعمل کا تاحال انتظار ہے۔ جو لوگ اس کیس پر طویل عرصے سے نظر رکھے ہوئے ہیں انہیں یقین ہے کہ امریکا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ڈاکٹر عافیہ کو رہا کر کے خیرسگالی کے بہترین جذبات حاصل کر سکتا ہے۔ 

پاکستان میں ڈاکٹر عافیہ، ڈاکٹر شکیل آفریدی اور ان کے حوالے سے سودے بازی پر رائے منقسم ہے تاہم وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان نے سودے بازی کی قیاس آرائی کو یکسرمسترد کر دیا ہے۔ امریکا نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ایبٹ آباد میں اس آپریشن کے بعد متعدد بار حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس میں مبینہ طور پر القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم امریکا سے کئے جانیوالے ایسے کسی مطالبے پر حکومت فوج کی رضامندی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرے گی۔ نجی ٹی وی سے ایک انٹرویو میں ریٹائرڈ جنرل مسٹر لودھی نے حکومت کو مشورہ دیا کہ شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی سودے بازی نہ کی جائے۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان موجودہ تناو والی صورتحال میں حکومت کے پاس کیا آپشنز یا چینل باقی رہ جاتے ہیں جس کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کی حکومت ڈاکٹر عافیہ کی رہائی حاصل کر سکتی ہے؟ 

شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے ایک ہفتے امریکا میں مقیم رہے اور کم ازکم میڈیا میں ایسی کوئی اطلاعات نہیں کے اس دوران ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ کسی بھی سطح پر اٹھایا گیا ہو۔ یہ کیس اچانک سے گذشتہ کچھ ہفتوں سے منظر عام پرآیا جبکہ ڈاکٹر عافیہ کی فیملی کئی سالوں سے محض امید کے بل بوتے پر جی رہی تھی۔ ماضی میں انکی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی، جو 2003 میں کراچی سے پراسرار گمشدگی کے بعد سے ان کی رہائی کیلئے مسلسل کوشاں رہیں اور ہر سطح پر حکومت سے رابطہ کیا، کو اب پیش رفت کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ کچھ اچھا ہونے کی امید ہے۔ پاکستان کے دفترخارجہ نے اب تصدیق کر دی ہے کہ امریکی حکام سے ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے باضابطہ درخواست کر دی گئی ہے اور موجودہ صورتحال میں یہ آسان نہ ہو گا جب تک وزیراعظم عمران خان یا صدر عارف علوی امریکی صدر ٹرمپ سے براہ راست اپیل نہ کریں۔ 

چونکہ ڈاکٹر عافیہ کو امریکی عدالت نے سزا سنائی ہے، امریکی صدر اس سزا کو معاف کر سکتے ہیں۔ ان کا کیس شاید سفارتی سطح سے بالا تر اعلیٰ ترین سطح پر حل ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی حکومت ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان واپس لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو نہ صرف وہ اس نقصان کا ازالہ کر سکے گی جو حالیہ احتجاج میں اسے پہنچا بلکہ طویل عرصے سے حل طلب اس مسئلے کو بھی انجام تک پہنچائے گی۔ شاہ محمود قریشی جو پی پی کے دور حکومت میں بھی وزیرخارجہ تھے اور جب ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانیوں کو قتل کر دیا تھا، اپنی پوزیشن کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ کے دعوے کی تردید کی کہ امریکا نے ریمنڈ ڈیوس کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی پیش کش کی تھی۔

ڈاکٹر عافیہ نے امریکا میں پاکستانی سفارتخانے کے توسط سے وزیراعظم کو ایک خط بھیجا ہے جس میں اپیل کی گئی ہے کہ وہ انکی رہائی کیلئے اپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔ ماضی میں پی پی اور ن لیگ کی حکومتوں نے بھی اس حوالے سے کوششیں کی، اگرچہ وہ کوششیں اعلیٰ ترین سطح پر نہ تھیں۔ ایک دفعہ میں نے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے دورہ پاکستان کے موقع پر ان سے سوال کیا تھا کہ پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ کی قید پر امریکی موقف کیا ہے، جس پر ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ہم عدالتی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ اس وقت ڈاکٹر عافیہ پر مقدمہ چلایا جارہا تھا لیکن اب امریکی صدر سزا معاف کر سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ پاکستانی قیادت امریکی حکام سے کیسے رابطہ کرتی ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ ڈاکٹر عافیہ نے 2003 سے لے کر اب تک امریکا میں اپنی عمر قید تقریباً مکمل کر لی ہے۔ 

مظہر عباس
 

Post a Comment

0 Comments