All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

پاکستان میں بجلی بحران کے معاشی اثرات

پاکستان میں پچھلے چند برسوں میں بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافے کے باوجود بجلی چوری اور ترسیل کے نظام میں نقائص کی وجہ سے بحران برقرار ہے اور گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ایک بار پھر معمول بن چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور قومی معیشت کو سالانہ 5.8 ارب ڈالر نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو مجموعی قومی پیداوار کے 2.6 فیصد کے مساوی ہے۔ پاکستان میں 97.5 فیصد آبادی کو بجلی کی سہولت دستیاب ہے۔ بجلی صارفین نہ صرف ماہانہ استعمال شدہ بجلی کا بل جمع کرواتے ہیں بلکہ لائن لاسز کی مد میں بھی اُنہیں حکومتی خزانے میں پیسے جمع کروانے پڑتے ہیں جو ان کے ساتھ کھلی نا انصافی ہے کیونکہ لائن لاسز کے ذمہ دار صارفین نہیں بلکہ بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیاں ہیں۔

این ٹی ڈی سی کا بجلی کا ترسیلی نظام اربوں روپے لگانے کے با وجود اوور لوڈ ہو چکا ہے اور اِس وقت ملک بھر کی بجلی ترسیلی کمپنیوں کا مجموعی لائن لاس 141.85 ملین یونٹ سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ پنجاب میں لیسکو، سندھ میں سیپکو، کے پی میں پیسکو اور بلوچستان میں کیسکو لائن لاسز میں سر فہرست ہیں۔ اس وقت بجلی تقسیم کے نظام میں 500kv کے چودہ، 220kv کے اُنتالیس، 132kv کے چھ سو چھپن اور 66kv کے ایک سو چار گرڈ اسٹیشن موجود ہیں۔66kv کے گرڈ اسٹیشن غیر موثر ہونے کی وجہ سے لائن لاسز کا سبب بنتے ہیں، جنہیں فوری طور پر بند کر دینا چاہئے۔

عالمی بینک کی الیکٹریفیکیشن اینڈ ہائوس ہولڈ ویلفیئر ریسرچ رپورٹ کے مطابق بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنا کے اور اسکی تقسیم و ترسیل کے نقصانات پر قابو پا کر قومی معیشت کو سالانہ چھ ارب ڈالر کے نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی کی ترسیل، تقسیم اور لائن لاسز پر قابو پانے کیلئے توانائی کے شعبہ میں بنیادی اصلاحات کی جائیں تاکہ صارفین کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کیساتھ ساتھ توانائی کی قیمت اور ادائیگی کے مسائل بھی ختم کیے جا سکیں ۔

اداریہ روزنامہ جنگ
 

Post a Comment

0 Comments