مستونگ میں سیاسی جلسے میں خود کش حملےمیں جہاں کئی گھروں کے چراغ گل ہوئے وہیں درینگڑھ کا ایک گھر ایسا بھی ہے جس کے تین بچے دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ مستونگ میں سیاسی جلسے میں ہونے والا دھماکا کئی خاندانوں کوغمزدہ کر گیا، بزرگ اور نوجوان تو خودکش دھماکے کا نشانہ بنے ہی لیکن درینگڑھ کے عبدالخالق کے تین چھوٹے بچے صرف جلسہ گاہ دیکھنے کی پاداش میں موت کے منہ میں چلے گئے۔ معصوم بچوں کا سیاست سے کوئی تعلق تھا ناہی وہ جلسے میں شریک تھے، چھوٹی سی بستی کےمکین تینوں بھائی علاقے میں کبھی کبھار ہونے والی گہما گہمی دیکھنے جلسہ گاہ گئے تھے۔
عبدالخالق بتاتے ہیں کہ نماز جمعہ کے بعد گھر واپس آئے تو دھماکا سنائی دیا، دیکھنے گئے تو ہر طرف لاشیں بکھری تھیں اور زخمی تڑپ رہے تھے، ان کے 2 بچوں کی لاشیں جلسہ گاہ کے اندر سے جبکہ ایک کی لاش اسپتال سے ملی۔ دھماکے سے ایک خاندان کے 11 جبکہ ایک اورخاندان کے سات افراد اپنے پیاروں سے جدا ہوئے جبکہ درینگڑھ کے عبدالقادر کے گھر کے دو افراد بھی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔
0 Comments