لاپتہ افراد کی گمشدگی ایسا دیرینہ مسئلہ ہے جس پر بجا طور پر ہر پاکستانی کو تشویش لاحق ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اس سلسلے میں عدالتی سماعت کے دوران خصوصی سیل قائم کرنے کا حکم دینا ان شہریوں کی بازیابی کی طرف ایک اہم قدم ہے جو سالہا سال سے اس ابتلا کا سامنا کر رہے ہیں فاضل چیف جسٹس کا یقین کے ساتھ یہ کہنا درد مندی کی دلیل ہے کہ اگرچہ لاپتہ افراد کی گمشدگی میری ایجنسیوں کا کام نہیں لیکن پھر بھی انہیں تلاش کرنا انہی کی ذمہ داری ہے اور اللہ کرے مسنگ پرسنز میں شامل تمام افراد زندہ ہوں، انہیں کچھ ہو گیا ہے تو بھی ان کے لواحقین کو آگاہ کیا جائے، ہو سکتا ہے کہ انہیں صبر مل جائے۔
وقت ایسا مرہم ہے جس سے دنیا سے چلے جانے والوں کے پیاروں کو بھی ایک دن صبر آجاتا ہے لیکن دنیا میں لاپتہ ہو جانے والے لوگوں کے عزیزوں کو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک ان کے زندہ یا مردہ ہونے کا علم نہیں ہو جاتا۔ یہی کیفیت ان کی ہے جو کئی برسوں سے اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں لہٰذا ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے گزشتہ دو دہائیوں سے ہم مختلف کیفیات سے گزر رہے ہیں ان میں سے کوئی بھی کیفیت گمشدہ افراد کے لاپتہ ہونے میں خارج از امکان نہیں جن میں دہشت گرد تنظیموں کا غریب افراد کو اپنے مذموم عزائم کیلئے استعمال کی غرض سے اٹھا کر لے جانا، اغوا برائے تاوان، غریب لوگوں کو بیگار کے لئے اٹھا کر لے جانا اور انسانی اسمگلنگ جیسے رجحانات شامل ہیں۔
مزید برآں بعض حالات میں شک کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی شہریوں کو پوچھ گچھ یا ضروری معلومات حاصل کرنے کیلئے لے جاتے لیکن بعد میں چھوڑ دیتے ہیں یہاں بھی طویل گمشدگی کا عنصر غالب نہیں آتا تاہم امید واثق ہے کہ فاضل چیف جسٹس کی ہدایات کے بعد جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم بازیابی کمیشن سمیت تمام تر وسائل بروئے کار لاکر لاپتہ افراد کی بازیابی میں مدد ملے گی۔
0 Comments