کوئٹہ سے پچاس کلو میٹر دور، مار واڑ اور سنجدی میں کوئلے کی دو کانوں میں میتھین گیس بھرنے سے ہونے والے دھماکوں کے باعث 23 کان کنوں کا جاں بحق اور13 شدید زخمی ہو جانا بلاشبہ نہایت المناک سانحہ ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایمبو لینس اور ریسکیو اہلکار مو قع پر پہنچے اور رات گئے تک جاری آپریشن میں کان میں پھنسے تمام زخمیوں اور لاشوں کو باہر نکال لیا گیا۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد کوئٹہ منتقل کر دیا گیا اور کوئٹہ سول اسپتال میں ضروری کارروائی کے بعد تمام لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نےمارواڑ پیر اسماعیل کی کان سے 18 مزدوروں کی لاشیں نکالنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تمام جاں بحق افراد کا تعلق سوات کے علاقے شانگلہ سے ہے۔ حادثہ کے حوالے سے ارضیاتی ماہرین کا کہنا تھا کہ ہفتہ کو ڈیرہ بگٹی میں مسلسل آنے والے زلزلے کے جھٹکوں کے باعث کانیں بیٹھ گئیں۔ بد قسمتی سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا حادثہ نہیں ہے۔ آئے دن کوئلے کی کانوں میں حادثات کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ صدیوں پرانی اِن کانوں میں اب تک سینکڑوں مزدور اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ناکافی انتظامات کے باعث ہونے والے حادثات کو قدرتی آفات نہیں کہا جا سکتا ۔
بہتر منصوبہ بندی اور سیکورٹی کے فول پروف انتظامات سے ایسے حادثات پر قابو پایا جا سکتا یا کم از کم جانی اور مالی نقصان کی شرح کو کم کیا جا سکتا ہے۔ہمارے ہاں عموماًحادثات کی صورت میں امداد اور ریسکیو کے لئے انتظامات ناقص ثابت ہوتے ہیں اور ان کا مقصد بسا اوقات محض خانہ پری ہوتا ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ کان انتظامیہ ایسے حادثات کو کم کرنے کیلئے مزدوروں کی فول پروف سیکورٹی فراہم کرے اور ان حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ بھی لیا جاتا رہے ۔ حکومت کو بھی مزدوروں کی صحت اور سیکورٹی کے اقدامات کو انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن کے معیارات کے مطابق بنانے میں اپنا کردار مؤثر طور پر ادا کرنا چاہئے۔
0 Comments