پاکستان میں جنگ گروپ کا ٹی وی چینل جیو نیوز حکومت کے اعلان کے باوجود مختلف شہروں میں کیبل پر بحال نہیں کیا جا سکا۔ یہ چینل ماضی میں بھی کئی بار بند کیا جا چکا ہے۔ جیو کی انتظامیہ اور کارکن ہر بار شديد احتجاج کرتے رہے ہیں لیکن ماضی کے برعکس چینل کی انتظامیہ خاموش ہے۔ گزشتہ روز الیکٹرونک میڈیا کی ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا نے کہا تھا کہ چینل بند کرنے والے کیبل آپریٹرز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ دو کیبل آپریٹرز کو نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے اعلان کیا کہ حکومت چینل بحال کروا ئے گی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ چینل بند کروانے والے ان سے زیادہ بااختیار ہیں۔
پاکستان میں صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پی ایف یو جے کے سابق صدر مظہر عباس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے کوئی غلط کام کیا ہے تو قانونی طریقے موجود ہیں جنہیں استعمال کر کے چینل پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ پیمرا کا ایک طریقہ کار ہے جس پر عمل ہونا چاہیے۔ کیبل آپریٹرز کے پاس یہ اختیار نہیں کہ کسی چینل کو بند کر دیں یا آخری نمبر وں پر پھینک دیں۔ نامعلوم وجوہ کی بنا پر چینل کی بندش آزادی صحافت کے لیے بہت بڑا سوال ہے۔ کیا ریاست کے اندر ریاست قائم ہے؟
کیبل آپریٹرز ایسوی ایشن کے عہدے دار تسلیم کرتے ہیں کہ جیونیوز کسی کے کہنے پر بند کیا گیا ہے۔ لیکن وہ بے بس ہیں اور یہ تک نہیں بتا سکتے کہ چینل کس کے کہنے پر آف ایئر کیا گیا ہے۔ صحافیوں کی تنظیم سیفما کے عہدے دار امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ جیو نیوز کی نشریات روکنے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا۔ چینل کی انتظامیہ معاملات ٹھیک کرنے کے لیے ملٹری اتھارٹیز سے مذاكرات کر رہی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ بات چیت ناکام ہو گئی ہے۔ ڈان نیوز کے سینیر صحافی مبشر زیدی کہتے ہیں کہ ایک فون کال آتی ہے اور چینل بند ہو جاتے ہیں۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ چینل کس نے بند کرائے ہیں۔
’جیو بہت عرصے سے یک رخی کوریج کر رہا تھا لیکن دوسری جانب ایسے چینل بھی ہیں جو خادم حسین رضوی کے ساتھ دھرنا دینے والوں کو کھانا بھجوا رہے تھے۔ ایک چینل اور ہے، وہ بھی یک رخی کوریج کر رہا ہے لیکن چونکہ وہ ڈیپ اسٹیٹ کے مفاد میں ہے اس لیے اس کی نشریات جاری ہیں‘۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آزادی صحافت کو اسی طرح پابند کیا جاتا رہا تو جیونیوز کے بعد دوسرے چینلوں کی باری بھی آ سکتی ہے اور چند ماہ بعد ہونے والے عام انتخابات کی شفاف کوریج پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔
0 Comments