کسی بھی ملک سے سرمائے کی بیرون ملک منتقلی اس ملک کی معیشت کے لئے سم قاتل سے کم نہیں ہوتی۔ ملکی امور چلانے کے لئے پیسے کا اندرون ملک گردش میں رہنا معیشت کے استحکام کی کلید ہے۔ اگر ایسا نہ ہو اور سرمایہ ملک سے باہر جاتا رہے تو ملک پر عُسرت کا آسیب اتر آتا ہے، جس کے اثرات سے نبرد آزما ہونے کے لئے عالمی مالیاتی اداروں سے بیاج پر قرض اٹھانا پڑتا ہے جو چیئرمین نیب کے حالیہ بیان کے مطابق 90 کھرب تک پہنچ گیا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری رُکنے، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاکستان سے بوریا بستر گول کر جانے اور ملکی سرمایہ کاروں تک کے اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے کی وجہ دہشت گردی اور سیاسی غیر یقینی کو قرار دیا گیا تاہم اس کی وجوہ اس کے علاوہ بھی تھیں۔
خاص طور پر پاکستانی سرمایہ کاروں کا اپنا سرمایہ خلیج اور مشرق بعید کے ملکوں میں منتقل کرنا زیادہ تر اپنے جائز یا ناجائز سرمائے پر منافع کمانا یا اسے محفوظ کرنا بھی ایک سبب تھا۔ یہ سرمایہ کاری اس قدر بڑھی کہ صرف دبئی میں پاکستانیوں کی 800 ارب روپے کی جائیدادیں ہیں، باقی کاروبار اس کے سوا ہیں۔ یہی سرمایہ اگر پاکستان میں ہوتا تو اس سے ملکی معیشت کو بلاشبہ سہارا ملتا۔ بہرکیف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے دبئی میں پاکستانیوں کی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری سے متعلق جیو نیوز کی فراہم کردہ معلومات پر معاملے کو متفقہ طور پر نیب کو بھیجنے کی سفارش کی ہے۔
تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نے چیئرمین کمیٹی سے کہا کہ جیو کے رپورٹر کو معلومات کمیٹی میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے جس پر انہو ں نے بتایا کہ دبئی میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانی 5 ہزار سے زائد ہیں۔ قومی کمیٹی برائے خزانہ کی طرف سے یہ معاملہ نیب کو بھجوانے کا متفقہ فیصلہ خوش آئند ہے کہ پاکستان میں کمائی کر کے دولت باہر بھیجنا کسی بھی صورت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نیب اس حوالے سے اہم قدم اٹھاتا ہے تو یہ ملکی سرمایہ واپس لانے کی طرف پہلا اور انتہائی خوش آئند اقدام ہو گا۔
0 Comments