پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اعتماد کا فقدان اور تعلقات میں اُتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کا صدر بننے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان بیان بازی بہت بڑھ گئی ہے۔ سالِ نو کے موقع پر صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی ہی ٹویٹ میں پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ امریکہ پاکستان کو ہمیشہ ’امداد بند کرنے‘ کی دھمکی دے کر ڈرایا ہے۔ سنہ 1947 میں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سے ہی پاکستان کو امریکہ سے امداد مل رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو گذشتہ پندرہ برسوں میں 33 ارب ڈالر کی امداد دی ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ اسے اتنی امداد نہیں ملی ہے۔ امریکہ پاکستان کو کیوں امداد دیتا ہے اور یہ امداد کس مد میں کتنی کتنی دے گئی ہے۔ اس رپورٹ میں پہلے نائن الیون کے بعد ملنے والی امداد اور دوسرے حصے میں پاکستان کے قیام کے بعد سے ملنے والی امریکی امداد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو دفاعی اور سماجی شعبے کی ترقی کے لیے امداد دیتا ہے۔
9/11 کے بعد امریکی امداد نو ستمبر 2001 میں نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد جہاں دنیا میں بہت کچھ بدلا وہیں پاکستان اور امریکہ کے اس وقت سرد تعلقات پر جمی برف پگھل گئی۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا سب سے اہم اتحادی بن گیا اور بدلے میں امریکہ امداد ایک وقفے کے بعد دوبارہ پاکستان کے لیے بحال ہو گئی۔ اس دوران پاکستان اقتصادی اور عسکری امداد کے علاوہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہونے والے اخراجات کی ادائیگی بھی کی گئی۔ جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے ایک بار پھر پاکستان کی فوجی حکومت کے لیے امداد بحال کر دی۔ امریکہ نے جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کو مجموعی طور پر 11 ارب ڈالر دیے جس میں 8 ارب ڈالر فوجی امداد کی مد میں دیے گئے 2002 سے 2010 کے دوران امریکہ نے پاکستان کو مجموعی طور پر 28 ارب 42 کروڑ ڈالر دیے۔
امریکہ نے اس دوران فوجی امداد کی مدد میں 11 ارب 39 کروڑ ڈالر دیے جبکہ ان آٹھ برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہونے والے اخراجات کی ادائیگی کی مدد میں 9 ارب 27 کروڑ ملے۔ اسی دوران سماجی شعبے کے لیے امریکہ نے آٹھ ارب ڈالر دیے۔ سنہ 2007 میں امریکہ نے پاکستان کے سماجی شعبے میں زیادہ امداد دینے کے لیے کیری لوگر بل کا اعلان کیا۔ جس کے تحت پاکستان کے سماجی شعبے میں بہتری کے لیے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر دینے کی منظوری دی۔ سال 2010-2015 کے دوران کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کو ساڑھے سات ارب ڈالر ملے۔ اس طرح 2002 سے 2015 کے دوران مجموعی طور پر پاکستان کو اقتصادی امداد کی مدد میں 15.539 ارب ڈالر ملے اور عسکری امداد کی مدد میں 11.40 ارب ڈالر ملے۔
اس دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے اخراجات کی ادائیگی یعنی کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت 13 ارب ڈالر جاری کیے گئے ہیں۔ امریکی تھینک ٹینک سینٹرل فار گلوبل ڈوپلنمنٹ اور امریکی کانگریس کی رپورٹ کی جانب سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ نے 2002 سے 2015 تک کیری لوگر کے تحت ملنے والی امداد سمیت مجموعی طور پر 39 ارب 93 کروڑ ڈالر دیے۔ دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ 2001 سے 2015 کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے اخراجات کی ادائیگی یعنی کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت ملنے والے 13 ارب ڈالر امداد نہیں ہیں۔
نائن الیون حملوں سے پہلے ملنے والی امریکی امداد امریکہ نے پاکستان کی امداد کے لیے پہلا معاہدہ 1954 میں کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان نے اگلے دس سالوں کے دوران تین ارب 20 کروڑ ڈالر امریکی امداد حاصل کی۔ امداد کا بڑا حصہ ملک کے پہلے فوجی حکمران جنرل ایوب خان کے دور میں ملا۔ 1965 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے بعد امریکہ نے دونوں ملکوں کی امداد میں بڑی حد تک کمی کر دی تھی۔ 1979 میں پاکستان میں جوہری پلانٹ کی موجودگی کے انکشاف کو جواز بنا کر امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ نے خوراک کے سوا پاکستان کی تمام امداد روک دی۔
افغانستان میں سوویت یونین کی فوجوں کے داخلے کے بعد پاکستان کی امداد نہ صرف بحال کر دی گئی بلکہ اس دوران پاکستان کو بہت زیادہ فوجی امداد ملی۔ امریکہ نے افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کو نکالنے میں مدد کرنے پر 1980 سے 1990 کے دوران جنرل ضیا الحق کی حکومت کو مجموعی طور پر پانچ ارب ڈالر کی رقم دی۔ افغان جنگ کے دوران ہی جب امریکی انتظامیہ پاکستان کی فوجی حکومت کے لیے بھاری رقوم بھیج رہی تھی، امریکہ کے اندر پاکستان کے جوہری پلانٹ پر پائی جانے والی تشویش کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ کانگریس نے امریکہ کے غیرملکی امداد کے قانون میں ایک ترمیم کی منظوری دے دی جسے پریسلر ترمیم کا نام دیا گیا۔
رپبلکن پارٹی کے ایک سینیٹر کے نام سے منسوب اس ترمیم کے تحت امریکی صدر کو پابند کیا گیا کہ وہ ہر سال امداد دینے سے پہلے اس بات کی تصدیق کریں گے کہ پاکستان جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا۔ پریسلر ترمیم کے تحت امریکی صدور 1989 تک اس بات کی تصدیق کرتے رہے کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا اور اسکے نتیجے میں پاکستان کو امداد ملتی رہی۔ لیکن 1990ء میں اس وقت کے صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے یہ تصدیق کرنے سے انکار کر دیا کہ پاکستان جوہری بم نہیں بنا رہا جس کے بعد پاکستان کی زیادہ تر معاشی اور تمام فوجی امداد معطل ہو گئی اور امریکہ نے پاکستان کے لیے ایف سولہ طیاروں کی فراہمی بھی روک دی۔ 1991 سے 2000 تک وقتاً فوقتاً جو امداد ملی اس کی مجموعی مالیت 50 کروڑ ڈالر تھی۔
0 Comments