امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازع شخصیت اور پالیسیاں پاکستان ہی نہیں امریکہ سمیت پوری دنیا میں ہدف تنقید بنی ہوئی ہیں۔ اپنے ملک کو جس تیزی سے وہ عالمی سطح پر تنہا کرتے چلے جا رہے ہیں اس کا ایک نہایت فیصلہ کن مظاہرہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اقدام کی بین الاقوامی برادری کی بھاری اکثریت کی مخالفت کی شکل میں ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی بھی جس کا بنیادی نکتہ افغان مزاحمت کو شکست دینے میں ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر اسے قربانی کا بکرا بنانا ہے، خود امریکی رائے عامہ میں کسی وقعت کی حامل قرار نہیں پائی ہے۔
اس پالیسی کے تحت صدر ٹرمپ نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان پندرہ سال سے امریکہ کے ساتھ دہرا کھیل کھیل رہا ہے اور اس مدت میں پاکستان کو جو امداد دی گئی وہ درحقیقت امریکی قیادت کی حماقت تھی۔ اس کے بعد فوجی امداد کی بندش سمیت پاکستان کے خلاف مختلف اقدامات کا آغاز ہوا جس کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم خود امریکہ میں اس حکمت عملی کو قومی مفادات کے منافی قرار دیا جا رہا ہے جس کا تازہ ترین ثبوت گزشتہ روز ممتاز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے اداریے کی شکل میں منظر عام پر آیا ہے۔
اخبار نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ پاکستان سے بے اعتنائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ نیویارک ٹائمز نے ٹرمپ انتظامیہ کو یاد دلایا ہے کہ افغانستان کیلئے ہر فوجی پرواز پاکستان کے فضائی حدود سے گزرتی ہے، زیادہ تر سپلائی پاکستان کے ریل یا روڈ سے ہوتی ہے جسے پاکستان کسی بھی لمحے بند کر سکتا ہے۔اداریے میں حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اہداف کے حصول کیلئے شور مچانے کے بجائے خاموش بات چیت کی ضرورت ہے اور اس کیلئے سفارتی طریقے اپنائے جانے چاہئیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے بھی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی وجہ سے سال رواں میں پچھلے سال سے بھی زیادہ سیاسی فساد رونما ہو گا۔
دوسری جانب پاکستان میں نہ صرف عوامی بلکہ سیاسی اور عسکری قیادت کی سطح پر بھی اس اعتماد کا بھرپور اظہار ہو رہا ہے کہ پاکستان امریکی امداد کا محتاج نہیں، نیز یہ کہ افغانستان پر فوج کشی میں امریکہ سے تعاون کر کے غلطی کی گئی تھی، اسی کی بناء پر ملک میں دہشت گردی پھیلی تاہم نہ صرف اس مسئلے سے پاکستان اپنے ہی وسائل سے کامیابی کے ساتھ نمٹ رہا ہے بلکہ معاشی ترقی اور سماجی اصلاحات کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے بھی اس کے پاس متبادل وسائل و ذرائع موجود ہیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے برطانوی اخبار دی گارجین کو گزشتہ روز دیے گئے انٹرویو میں اس حقیقت کی واضح طور پر نشان دہی کی ہے کہ امریکی امداد پاکستان کیلئے غیر اہم ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان خود لیڈر کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر اور ایک سو بیس ارب روپے کا نقصان اٹھا کر پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت چکا ہے، گزشتہ پانچ سال میں امریکی امداد کی رقم ایک کروڑ ڈالر سالانہ سے بھی کم رہی لہٰذا امریکی امداد بند ہونے سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے بھی ممتاز امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں گزشتہ روز شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں بالکل دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ پاکستان کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ اقدامات کے بعد وہ امریکہ سے اتحاد کو ختم سمجھتے ہیں، 2001ء میں امریکہ کی افغانستان مہم میں شامل ہو کر ہم نے بہت بڑی غلطی کی اوراب یہ جنگ دوبارہ پاکستان کی سرزمین پر نہیں لڑی جائے گی۔
صدر ٹرمپ کی پاکستان مخالف پالیسیوں کے نتیجے میں باہمی تعلقات کے اس نہج پر پہنچ جانے کے بعد ضروری ہے کہ پاکستانی قوم اور قیادت پوری یکسوئی کے ساتھ طے کر لے کہ پاکستان کو اب ماضی کی طرح امریکہ کا تابع مہمل بن کر نہیں رہنا اور امریکی امداد سے بے نیاز ہوکر اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے ۔ پاکستان کیلئے یہی عزت و سرفرازی کی راہ ہے جسے قدرت نے خود اس کیلئے ہموار کر دیا ہے۔
0 Comments