All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

قائد اعظم محمدعلی جناح کی بلوچستان سے محبت

قائد اعظم محمد علی جناح کو بلوچستان اور اہل بلوچستان سے خاص لگاؤ اورانس تھا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں اس صوبے کے متعدد دورے کیے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے بلوچستان کے دوروں کا آغاز 1934 کے وسط سے ہوا تھا، اس وقت انہوں نے صوبے میں تقریبا ًدو ماہ قیام کیا، اس کے بعد قائد اعظم نے کوئٹہ اور زیارت کے علاوہ مستونگ، قلات، پشین، ڈھاڈر اورسبی سمیت اندرون صوبہ کئی دورے کیے۔ بانی پاکستان کے بلوچستان سے تعلق اور محبت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے مشہور 14 نکات میں اس صوبے میں اصلاحات کا مطالبہ بھی شامل تھا ۔

جناح کیپ کے نام سے شہرت پانے والی اور بابائے قوم کی شخصیت کا حصہ بن جانے والی قراقلی ٹوپی بھی انہیں کوئٹہ ہی میں پیش کی گئی تھی۔ قائد اعظم نے بلوچستان سے اپنی محبت کا ثبوت قیام پاکستان کے بعد فروری 1948 میں سبی میں پہلے سالانہ دربار میں طبیعت کی خرابی کے باوجود شرکت کر کے بھی دیا ۔
بابائے قوم نے زندگی کے آخری ایام زیارت کے پر فضا مقام پر واقع ریزیڈینسی میں ہی گزارے ، وہ قیام پاکستان سے قبل جدوجہد آزادی اور بعد میں نوزائیدہ مملکت کے امور بھی یہاں سے چلاتے رہے، یہی وجہ ہے کہ زیارت ریذیڈینسی کو قومی ورثہ قرار دے کر قائداعظم سے ہی منسوب کر دیا گیا، ان کی یہ قیام گاہ اہل بلوچستان کے لیے یقینا ًایک بیش بہا اثاثہ ہے۔

ان کی بلوچستان سے محبت اور انس کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام زیارت میں گزارے، علالت کے باوجود قائد نےکسی بڑے شہر جانے کی بجائے زیارت کو ترجیح دی، زیارت میں وقت گزارنا بلوچستان اور یہاں کے لوگوں سے قائد کی محبت کا مظہر ہے۔ نواب ثناء زہری کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے بڑی قربانیوں کے بعد یہ ملک حاصل کیا ہے، بلوچستان سمیت ملک بھر کےعوام کسی صورت ملک کے اتحاد اور سلامتی کو خطرے میں پڑنے نہیں دیں گے، ہم سب مل کر پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ملک میں رواداری اور جمہوریت کو فروغ دے کر ہی قائد کو خراج عقیدت کا حق ادا کیا جا سکتا ہے اور آج قائد کے زرین اصولوں پرچلتے ہوئے ملک کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

راشد سعید
 

Post a Comment

0 Comments