پاکستان کی قومی اسمبلی میں نااہل شخص کو پارٹی سربراہی سے روکنے کے لیے پیش کیا گیا الیکشن ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی سے مسترد ہو گیا۔ ترمیم کے حق میں 98 جبکہ مخالفت میں 163 ارکان نے ووٹ دئیے۔ ن لیگ نے ایوان میں بھر پو طاقت کا مظاہرہ کیا تاہم سابق وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی نے اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے الیکشن ایکٹ 2017 کے آرٹیکل 203 میں ترمیم کا بل پیش کیا جس کے تحت نااہل شخص کسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا۔
پیپلزپارٹی نے بل پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایک شخص جب تک پارٹی کا سربراہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود ممبر اسمبلی بننے کا اہل نہ ہو، نا اہل شخص باہربیٹھ کر سربراہ کے طور پر پالیسی ڈکٹیٹ کرے تو مناسب نہیں۔ اگرچہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان پارلیمان کی تعداد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کی تعداد سے کم تھی تاہم حکمراں جماعت کو اپنے ارکان کی غیر حاضری کا مسئلہ بھی درپیش تھا لیکن آج قرارداد مسترد ہونے کی صورت میں وہ حل ہو گیا۔ حزب اختلاف کی جماعتیں الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 203 میں ترمیم چاہتی ہیں جس کا مقصد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور نااہل وزیراعظم نواز شریف کو جماعت کا سربراہ بننے سے روکنا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا تاہم پاکستان مسلم لیگ ن الیکشن ایکٹ 2017 سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور کروانے میں کامیاب رہی جس کے بعد وہ سابق وزیراعظم کا اپنی سیاسی جماعت کے سربراہ کا عہدہ برقرار رہا۔ اس سے قبل کوئی بھی نااہل شخص کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا تھا۔
0 Comments