پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کے نتیجے میں غیرملکی سیاحوں کی آمد میں 3 گنا اضافہ ہو گیا۔ امریکی نشریاتی ادارہ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے سے سیاحتی صنعت کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا اور 2013 کے بعد سے غیرملکی سیاحوں کی آمد میں 3 گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستانی حکومت نے سیاحوں کو راغب کرنے کی مہم بھی شروع کی ہے اور رواں موسم گرما میں برطانوی دارالحکومت لندن میں چلنے والی سرخ بسوں پر بڑے بڑے اشتہارات بھی نصب کیے۔ پاکستان میں پرفضا مقامات کا سفر آسان کرنے کے لیے سڑکوں کی حالت بھی بہتر بنائی گئی ہے۔
پاکستان ٹورازم ڈولپمنٹ کارپوریشن کے مطابق 2013 کے بعد غیرملکی سیاحوں کی تعداد 3 گنا اضافے کے ساتھ 2016 میں ساڑھے 17 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جب کہ مقامی سیاحوں کی تعداد 30 فیصد اضافے کے ساتھ 3 کروڑ 83 لاکھ ہو گئی۔ عالمی سفری و سیاحتی کونسل کے مطابق پچھلے سال سیاحت کے شعبے سے پاکستان کو 19.4 ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی جو جی ڈی پی کا 6.9 فیصد بنتی ہے۔ عالمی کونسل کے مطابق ایک عشرے میں پاکستان کی یہ آمدنی بڑھ کر 36.1 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ برطانیہ میں ٹریول کمپنی کے منتظم جانی بیلبی نے بتایا کہ ان کے پاس پچھلے سال کے مقابلے میں پاکستان کے ٹورز میں 60 فیصد اضافہ ہو گیا ہے جس کی بنیادی وجہ سیکورٹی صورتحال کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی بہتری بھی ہے۔
پاکستان میں ہوٹل بکنگ کی ویب سائٹ کے مطابق کمروں کی بکنگز میں بھی 80 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ بلوم برگ کے مطابق غیرملکی سیاحوں کے لیے پاکستان کے ویزا کا حصول مہنگا بھی ہے اور مشکل بھی لہذا یہ مسئلہ سیاحوں کی آمد میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان ٹورازم ایجنسی کے ترجمان مختار علی کے مطابق سردست پاکستان میں 16 ممالک کے شہریوں کو ویزا آن ارائیول (پاکستان پہنچنے کے بعد ائرپورٹ پر ویزا فراہمی) کی سہولت موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ کراچی میں بھی سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہو گیا ہے جو گینگ وار اور سیاسی خونریزی کے حوالے سے مشہور ہے۔
0 Comments