All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

پاکستان میں برف پوش پہاڑ اور لہلہاتے سبزہ زار

پاکستان میں برف پوش پہاڑوں سے لے کر لہلہاتے سبزہ زاروں تک، کئی ایسے سیاحتی مقامات ہیں، جن پر حکومت توجہ دے تو ملک میں سیاحت کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔ پاکستان میں کے ٹو اور نانگا پربت کی برف سے ڈھکی چوٹیاں، دنیا بھر سے کوہ پیمائی کے شوقین افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں تو فیری میڈوز، سری پائے اور ایسے ہی دوسرے سبزہ زار، سیاحت کے شوقین افراد کے لیے جنت نظیر ہیں۔ آزاد کشمیر کی وادیوں کا حُسن بھی، دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ یہی نہیں، وطن عزیزکی جھیلیں، دریا اور تالاب بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔

ایسے میں ضرورت ہے تو بس باقاعدہ منصوبہ بندی اور حکومتی توجہ کی، جس کے ذریعے ان علاقوں میں سیاحت کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے جس سے دنیا بھر میں ملک کا مثبت امیج ابھارنے میں بھی مدد ملے گی ۔ وادی سوات کا شمار پاکستان کے حسین ترین خطوں میں ہوتا ہے جہاں خوبصورت چشمے، شور مچاتے دریا، گنگناتے آبشار اور گھنے جنگلات ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے، ہر سال موسم گرما اور سرما میں سیاح سوات کے حسین مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ سوات کے علاوہ سیاح دیگر شمالی علاقوں، چترال، کاغان، ناران ، مری اور آزاد کشمیر میں بھی برف پوش چوٹیوں، چراگاہوں، گھنے جنگلات اور جھیلوں کا رخ کرتے ہیں اور زندگی کی حسین لمحات گزارتے ہیں۔

سیاح ان مقامات میں نہ صرف حسین نظاروں کا مزہ لیتے ہیں ساتھ ہی مقامی جیولری، ہینڈی کرافٹس اور ڈرائی فروٹس کی شاپنگ بھی کرتے ہیں، اور واپسی پر اپنے خاندان کے دیگر افراد کیلئے بطور سوغات ساتھ لے جاتے ہیں۔ سیاح کہتے ہیں کہ اگر حکومت رابطہ سڑکوں کو ٹھیک رکھیں اور سہولیات فراہم کریں تو سیاحت کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب بےبہا قدرتی مناظر اور تاریخی اور پرفضاء مقامات بلوچستان کےخوبصورت لینڈ اسکیپ کاحصہ ہیں۔


صوبائی دارلحکومت کوئٹہ کےنواح میں پہاڑوں میں گھری ہنہ جھیل ہو، زیارت میں صنوبر کے جنگلات ہوں یا وہاں قائداعظم کی خوبصورت ریذیڈنسی یا خضدار اوربولان میں قدرتی آبشاریں اورچشمے، پہاڑوں میں جا بجا قدرتی غاریں اور ان میں پائی جانےوالی مخلوق ہو، یا مہر گڑھ کی آٹھ ہزار سال پرانی تہذیب کے آثار ہوں یا لسبیلہ اور پنجگور میں قدیم قبریں اور انگریز دور کے قلات، خاران، ژوب، تربت، پنجگور میں تاریخی قلعے اور پھر مکران کا طویل دلفریب ساحل۔ یہ سب ایسے مقامات ہیں جو قابل دید اورسیاحت ہیں مگرافسوس کی بات یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود حکومتی سطح پر ان کی ترقی اوربہتری کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔


 

Post a Comment

0 Comments