Header Ads

Breaking News
recent

دو قومی نظریہ ہی درحقیقت نظریہ پاکستان ہے

تحریک پاکستان کا شمار دنیا کی عظیم ترین انقلابی تحریکا ت میں ہوتا ہے یہ تحریک برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کی آرزوؤں اور اُمنگوں کا مظہرتھی اس تحریک کی بنیاد دو قومی نظریہ تھا اور یہ دو قومی نظریہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ قرآن وسنت کا نظریہ ہے اور اسلامی سیاست کا ایک اہم اُصول ہے۔ دوقومی نظریہ ہی درحقیقت نظریہ پاکستان ہے ۔ برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کو اپنی شناخت اور پھر دو قومی نظریہ کی بنیاد پر جداگانہ ریاست کی ضرورت یوں شدت سے محسوس ہوئی کہ ان کے ساتھ موجود ایک دوسرے نظریہ کے حامل افراد جو مسلمانوں کے توحید اور انسانی مساوات کے نظریہ حیات کے برعکس بت پرستی اور ذات پات کے قائل تھے، اس کے برعکس اس خطے میں بسنے والی ملت اسلامیہ اپنے قومی تشخص اور علیحدہ شناخت کو چھوڑنے کیلئے کسی صورت تیار نہ تھی ۔

سلطان شہاب الدین غوری نے بھی اسی دو قومی نظریہ کی بنیا د پر ہندو مسلم اختلافات کو ہمیشہ کے لئے طے کرنے کا طریقہ نکالا اور ہندو راجہ پرتھوی کو تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’برصغیر میں ہنددؤں اور مسلمانوں کی باہمی معرکہ آرائی کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا واحد حل یہی ہے کہ برصغیر کے دریائے جمنا کوحد فاصل بنا کر تقسیم کر دیا جائے کہ مشرقی ہندوستان پر ہندوؤں اورمغربی ہندوستان پر مسلمانوں کا تصرف ہو جائے تا کہ دونوں قومیں امن وامان سے زندگی گزارسکیں ‘‘ یعنی ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اِسی نظرئیے کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے 22 مارچ 1940ء کو لاہورمیں ہونے والے مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس کے خطبہ صدارت میں برملا کہا کہ قوم کی خواہ کوئی بھی تعریف کی جائے مسلمان اس تعریف کے مطابق ایک قوم ہیں اور ان کا اپنا وطن ان کا اپنا علاقہ اوران کی اپنی مملکت ہونی چاہیے۔

ہم ایک آزاد و خود مختار کی حیثیت سے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن و اتفاق کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم امن پسند اوراُمنگوں کے مطابق اور اپنے معیاراورنصب العین کومد نظر رکھتے ہوئے اپنی روحانی ،ثقافتی ، اقتصادی، سماجی اور سیاسی زندگی کو بہتر اور بھرپور طریقے سے ترقی دے سکے۔ دو قومی نظرئیے کا تعلق صرف برصغیر سے ہی نہیں بلکہ یہ نظریہ پورے کرۂ ارض سے عبارت ہے۔ اس نظریہ کے تحت ہم دنیا کو مسلم اور غیر مسلم میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ علامہ اقبال نے بھی دو قومی نظریہ کے حوالے سے دو ٹوک اندازمیں بات کرتے ہوئے کہا ’’مغربی ممالک کی طرح ہندوستان کی یہ حالت نہیں کہ اس میں صرف ایک ہی قوم آباد ہو، وہ ایک نسل سے تعلق رکھتی ہو اور اس کی زبان بھی ایک ہو، ہندوستان مختلف اقوام کا وطن ہے جن کی نسل، زبان ،مذہب سب ایک دوسرے سے الگ ہیں ۔

ڈاکٹرحاجی محمد حنیف طیب


 

No comments:

Powered by Blogger.