Header Ads

Breaking News
recent

ملک معراج خالد : درویش صفت شخصیت

معراج خالد یکم فروری 1916 کو پیدا ہوے ۔ انہوں نے اپنی عمر سادگی، عاجزی اور انکساری میں گزار دی۔ ابتدا ہی سے سماجی کارکن کی حیثیت سے دن رات ایک کر دیا۔ گونڈھ مڈل سکول سے آٹھویں اورسینٹرل ماڈل ہائی سکول لوئرمال سے میٹرک اوراسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے 1939ء میں بی اے آنرز کا امتحان پاس کیا۔ 

1946ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ کسمپرسی اور غربت کے دن تھے۔ سکول اور کالج کی فیس بھی نہیں ہوتی تھی۔ معراج خالد صبح تین بجے جاگ جاتے، بھینسوں کا دودھ نکالتے اور اسے بیچنے کے بعد سکول جاتے تھے۔ تمام تعلیم دودھ فروشی اور معمولی ملازمتیں کر کے ہی حاصل کی۔ کئی سال ایک کرتا پہنے رہے، نیا خریدنے کے لئے پیسے نہ تھے حتیٰ کہ جوتا بھی نہ تھا۔ والد صاحب کا جوتا پہن کر کالج جاتے اور واپس آ کر انہیں دے دیتے۔ باپ بیٹا، دونوں کے پاس ایک ہی جوتا ہوتا تھا، دن کے وقت والد صاحب اور دوپہر کے بعد ملک معراج خالد ننگے پاؤں پھرتے تھے لیکن کبھی احساس کمتری کا شکار نہیں ہوئے۔

زمانہ طالب علمی میں تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور مہاجرین کی آباد کاری کے لئے بھی کام کیا۔ ضلع لاہور کے دیہی علاقے کی تعلیم و تربیت کے لئے اگست 1939ء میں انجمن اخوان السلام کی بنیاد رکھی جس کے زیر انتظام 1954ء میں اخوان ہائی سکول برکی کا قیام عمل میں آیا اور پھر یکم فروری 1994ء کو کالج کا افتتاح سابق صدر فاروق لغاری سے کروایا۔ یہ دونوں تعلیمی ادارے برس ہا برس سے ہزاروں طلباء کی تعلیمی پیاس بجھا رہے ہیں۔ ملک معراج خالد نے یہ سب کچھ علاقے کے غریب، مستحق اور ہونہار بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے کیا۔ یہ صدقہ جاریہ اب بھی جاری ہے۔ وہ ڈیرہ چاہل سے ریلوے روڈ لاہور میں واقع ایک کچے گھر میں منتقل ہو گئے۔ 

1964ء میں ریگل چوک کے قریب ایک فلیٹ میں ساری عمر گزار کر مثال قائم کر دی۔ ایک کمرہ تھا، وہی ڈرائنگ روم، وہی دفتر اور وہی گھر۔ ان کی بیگم صاحبہ سکول ٹیچر تھیں 1973ء میں فورٹریس سٹیڈیم میں عوامی میلے کے دوران میں نے اُن سے پوچھا’’ میڈیم آپ کے میاں وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں کیا آپ سکول کی ملازمت چھوڑ دیں گی‘‘ تو انہوں نے کہا ’’میری ملازمت مستقل ہے ، میں کیوں چھوڑوں، ان کی ملازمت تو عارضی ہے‘‘۔ بیگم صاحبہ کا کہنا تھا ہمارے گھر میں مٹی کے دو گھڑے ہیں ہم ان گھڑوں کا ٹھنڈا پانی پیتے ہیں جبکہ فریج ہم نے مہمانوں کے لئے رکھا ہوا ہے۔ 

عظیم شخصیت کی بیوی بھی عظیم تھیں۔ ملک معراج خالد بہت مشکل حالات میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی کمال صفات کی وجہ سے 1965ء میں آزاد حیثیت سے سابقہ مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر کنونشنل مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ وہ 1966ء ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی جدوجہد کا حصہ بن گئے ان کا شمار پیپلز پارٹی کے بانیوں میں ہوتا تھا۔ مگر انہوں نے عمر کے آخری حصے میں پیپلز پارٹی کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ وہ 1972ء میں وفاقی وزیر زراعت اور پھر 1972ء ہی میں وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دئیے گئے اور1988 تا 1990 قومی اسمبلی کے سپیکر رہے۔ نومبر 1996ء تا 1997ء نگران وزیر اعظم مقرر ہوئے۔ 

اتنے بڑے اور اہم عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود ساری زندگی سادگی اور عاجزی میں ہی گزاری۔ جب وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے جانا تھا۔ ہال روڈ پر ہی رہائش تھی، ڈرائیور گاڑی کہیں لے گیا تھا۔ جب ڈرائیور دیر تک واپس نہ آیا تو وہ ریگل چوک سے ایک رکشہ پر سوار ہوئے اور سیدھے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچ گئے۔ علامہ اقبال کے بہت بڑے شیدائی تھے ان کے کلام بہت شوق سے پڑھتے تھے اور کلامِ اقبال سے کئی ایک اشعار زبانی یاد تھے۔ سیاست میں کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی ہمیشہ لوگوں کی بہتری اور بھلائی کے لئے کام کرتے رہے۔ ضیاء کے دور میں جیل بھی کاٹی۔ ان کے اس دنیا سے 13 جون 2003ء کو چلے جانے سے بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا۔
 

No comments:

Powered by Blogger.