Header Ads

Breaking News
recent

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اور ذہنی کج روی

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر، مرتضیٰ علی بھٹو کے صاحبزادے ہیں، ذوالفقار بھٹو کے پوتے ہیں، امریکہ میں مقیم ہیں، زنانہ بہروپ میں زنانہ لباس پہن کر کلب میں ناچتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ یہ دقیانوسی نظریہ ہے کہ ایک طاقتور مرد ہی قوم کا نمائندہ ہو سکتا ہے، اُن کے نزدیک مردانگی دراصل نرمی میں ہے۔ ایک ڈاکیومینٹری میں انہوں نے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا ہے جسے دیکھ کے بظاہر یوں لگتا ہے جیسے اپنے والد، پھوپھی اور خاندان کے دیگر افراد کے قتل نے انہیں مجبور کیا کہ وہ مردانہ برتری کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کا بہترین عملی طریقہ انہوں نے زنانہ پن میں ڈھونڈا، اسی لئے وہ اِس ڈاکیومینٹری میں عورت کی طرح کڑھائی کرتے اور ناچتے نظر آتے ہیں۔

بحث یہ نہیں کہ بھٹو جونیئر کو اپنے داد ا کی وراثت سنبھالنی چاہئے تھی یا نہیں اور بحث یہ بھی نہیں کہ ایک فرد کی حیثیت سے انہیں عورت کا بہروپ بھرنے کی آزادی میسر ہے یا نہیں۔ بحث یہ ہے کہ کیا مرد کی نام نہاد مردانگی کے خلاف مزاحمت کا یہ طریقہ مناسب ہے، بحث یہ ہے کہ کیا فرد کی آزادی کے نام پر کی جانے والی کسی بھی حرکت پر رائے زنی کی جا سکتی ہے یا اسے شخصی آزادی کے کھاتے میں ڈال کر خاموش رہنا چاہیے، بحث یہ ہے کہ ذہنی کج روی اور نارمل انسان کے رویے میں کوئی فرق ہوتا ہے یا ذہنی کج روی کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں، بحث یہ ہے کہ اگر کوئی مزاحمت کا نیا اور انوکھا طریقہ اختیار کرے تو اسے محض اس لئے مسترد کر دیا جائے کہ وہ مرجہ طریقہ کار سے متصادم ہے، بحث یہ ہے کہ اگر کوئی مرد عورت کا بہروپ بھرے تو کیا اس پر تبرّا کرنا جائز ہو جاتا ہے اوربحث یہ ہے کہ کیا مرد کا عورت کے روپ میں کلب میں ناچنا کسی اعلیٰ اور ارفع مقصد کے حصول کی جدو جہد کا استعارہ کہلایا جا سکتا ہے ؟

ہر شخص کی طرح بھٹو جونیئر کو بھی اپنی زندگی جینے کا حق ہے، وہ چاہیں تو کسی جنگل میں نکل جائیں، سنیاس لے لیں، کراچی میں کوئی ریستوران کھول لیں، فائٹر پائلٹ بن جائیں، ایدھی کی طرح انسانی فلاح کا کوئی کام کریں، امریکہ میں عیاشی کریں، اپنے دادا کی وراثت کو زندہ کریں یاکوئی بھی کام کریں جو اُن کا دل چاہے۔ اپنے اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے عورت کا روپ بھرا اور کلب میں ناچنے کا فیصلہ کیا، یہ زندگی اُن کی ہے اور یہ فیصلہ بھی اُن کا ہے سو وہ جہاں رہیں خوش رہیں، یہاں تک تو بات ٹھیک ہے، کسی کو اِس بات کا مذاق اڑانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے مگر ساتھ ہی اِس حرکت پرتنقید یا تحسین کرنا بھی ہر شخص کا حق ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ مغرب سے جو بھی حرکت امپورٹ ہو کر آتی ہے یہاں کے لبرل دانشور اسے سینے سے لگانا اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اورایسی کسی حرکت پر تنقید کو شخصی آزادی اور آزاد خیالی پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

یہ شخصی آزادی کا لطیفہ بھی خوب ہے، صاحب آپ کی شخصی آزادی سر آنکھوں پر، ہمیں بھی تو یہ آزادی دیجئے کہ ہم کہہ سکیں کہ کسی مرد کا عورت کے روپ میں کلب میں ناچنا مرد کے ظلم کے خلاف مزاحمت تو دور کی بات دراصل ذہنی کج روی کی ایک شکل ہے۔ اب یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ بھائی آپ کب سے نفسیات دان ہو گئے جو یہ طے کرنے بیٹھ گئے کہ ذہنی کج روی کیا ہوتی ہے۔ درست ہے، میں نفسیات دان نہیں، اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں، یہ ذہنی کج روی نہیں، تو پھر یہاں کیوں رُکتے ہیں، آگے بڑھتے ہیں، امریکہ میں تو ہر قسم کے کلب ہیں، ایسے بھی ہیں جہاں مرد ’’ڈانسنگ بئیر ‘‘ بن کے ناچتے ہیں تو کیوں نہ اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جائے کہ اِس ’’جدو جہد ‘‘کے صلے میں اِن مردوں کو کوئی خطاب دے دیا جائے !

انسان تو بعض ایسی حرکتیں بھی کرتے ہیں کہ انہیں لکھا تو کیا نجی محفل میں بھی اظہار نہیں کیا جا سکتا ہے، اُن سب کے ضمن میں بھی کسی نفسیات دان کی سند موجود نہیں تو کیا پھر انسان کی ذہنی کج روی کا تصور ہی سرے سے بکواس ہے ؟ چلیں ہم یہ مان لیتے ہیں کہ کسی مرد کا عورت کے روپ میں ناچنا ذہنی کج روی نہیں، لیکن یہ تو مجبور نہ کریں کہ اس حرکت کی تحسین کی جائے اور اسے عظیم جدو جہد کا استعارہ بھی سمجھا جائے ! یہ درست ہے کہ (مسٹر ) بھٹو نے مزاحمت کا طریقہ کار خاصا مختلف چنا اور محض اس بنیاد پر اسے رد نہیں کیا جا سکتا مگر یہ مزاحمت کیسے اور کس کے خلاف ہے، یہ سمجھ نہیں آئی۔ سٹرپٹیز کلب میں ناچتی ہوئی عورت تو کہہ سکتی ہے کہ وہ مظلو م ہے مگر اپنی مرضی سے عورت کا بہروپ بھر کے ناچنے والا کون سے اعلیٰ و ارفع مقصد کی تکمیل کر رہا ہے، خدا جانتا ہے کہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ اس بات پر تما م لبرل مرد و خواتین مجھے جاہل کہہ سکتے ہیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن بھٹو جونیئر کی یہ بات بھی کسی لطیفے سے کم نہیں کہ طاقتور مرد کو ہی قوم کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ موصوف کی اپنی آنٹی بے نظیر بھٹو نے اس روایتی نظریے کی دھجیاں اڑائیں اور ایک نہتی لڑکی کے طور پرجدو جہد کی مثال قائم کی، کیا وہ کوئی طاقتور مرد تھیں ؟

مسئلہ یہ ہے کہ مغرب سے درآمد شدہ نظریات ہمارے آزاد خیال دانشوروں کو بے حد محبوب ہیں، شخصی آزادی سے لے کر اظہار رائے کی آزادی تک ہمارے یہ لبرل دوست کسی قسم کی لکیر کھینچنے کے قائل نہیں کیونکہ مائی باپ امریکہ نے ایسی کوئی لکیر نہیں کھینچی۔ نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ آپ کسی بھی قسم کی آفاقی سچائی کا مضحکہ اڑا سکتے ہیں کیونکہ آزادی کی کوئی حد طے نہیں کی جا سکتی چاہے یہ آزادی کسی کی ذات تک ہی کیوں نہ محدود ہو۔ ویسے یہ ناممکن ہے کیونکہ شخصی آزادی بھی کسی نہ کسی انداز میں دوسرے شخص پر اثر انداز ہوتی ہے، مثلا ً اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ سر عام بوس و کنار کرتے ہوئے ہم جنس پرست کسی راہ چلتے بچے کے ذہن پر کوئی نقش نہیں ڈالتے تو میں اسے ذہنی کج روی ہی کہوں گا۔ اسی طرح آزادی اظہار کی لا محدود آزادی بھی بے گناہ انسانوں کے قتل کا باعث بن سکتی ہے، کوئی لبرل ملک محض یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتا کہ یہ میرے آئین میں دی گئی گارنٹی کے مطابق ہے سو مسلمان مرتے ہیں تو مریں۔

لا محدود آزادی اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والا معاشرہ ایک روبوٹک معاشرہ تو ہو سکتا ہے جہاں ہر کوئی دوسرے سے لا تعلق ناک کی سیدھ میں چلا جا رہا ہو اور اپنے کام سے کام رکھ کر ناک کی سیدھ میں واپس آ جائے مگر انسانوں کے معاشرے میں یہ ممکن نہیں۔ جیتے جاگتے انسان روبوٹ نہیں ہوتے، لا محدود انسانی آزادیاں چاہے شخصی اور انفرادی ہی کیوں نہ ہوں ایسے مکروہ افعال کو جنم ضرور دیتی ہیں جو فرد کے دائرے سے باہر نکل جاتے ہیں اور جن کا کوئی نارمل انسان دفاع نہیں کر سکتا، اگر ہم اندھا دھند ایسی آزادیوں کا دفاع کریں گے تو پھر کوئی آفاقی سچائی باقی نہیں بچے گی، چاہے وہ آفاقی سچائی خاندان کی حرمت ہو یا مرد کا مرد بن کر رہنا۔

یاسر پیر زادہ

No comments:

Powered by Blogger.