Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان میں پایا جانے والا نایاب برفانی چیتا

ہمارے ملک میں مختلف انواع کے جنگلی جانوروں پائے جاتے ہیں لیکن چند ایک
کے بارے میں معلومات عام نہیں۔ ان میں سے ایک برفانی چیتا ہے۔ یہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک بھارت ، افغانستان، چین اور وسط ایشیائی ریاستوں کے پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کا مسکن کوہ ہندو کش اور قراقرم کا پہاڑی سلسلہ ہے۔ یہ گلگت بلتستان، خیبرپختون خوا اور آزاد کشمیر میں نظر آتا ہے۔ یہ کسی بڑی اور خونخوار بلی کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ سر سے لے کر دم تک ان کی لمبائی 30 سے 50 انچ ہوتی ہے۔ البتہ اس کی دم بہت لمبی ہوتی ہے۔ ان کا وزن 27 سے 55 کلوگرام تک ہوتا ہے۔

دنیا میں برفانی چیتوں ان کی آبادی کے درست اعدادوشمار نہیں ملتے کیونکہ دشوار گزار علاقے میں رہنے والے ان جانوروں کا پتا چلانا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم اندازاً ان کی تعداد چار سے آٹھ ہزار بتائی جاتی ہے۔ یہ جانور سطح سمندر سے 8700 فٹ یا اس سے بلند مقامات پر رہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ نسبتاً کم بلند پہاڑوں میں بھی رہائش اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے جسم پر گھنے اور قدرے لمبے بال ہوتے ہیں۔ یہ باآسانی سرد اور برفانی موسم میں رہ لیتے ہیں۔ ان کے بال، موٹی جلد اور چھوٹے کان سردی سے بچانے میں معاون ہوتے ہیں۔ ان کے پنجے چوڑے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے برف پر چلنا آسان ہوتا ہے اور یہ پھسلتے نہیں۔ قدرت نے انہیں لمبی دُم بلا مقصد عطا نہیں کی۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں دُم توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ ان کی دم موٹی ہوتی ہے جسے وہ سوتے وقت کسی کمبل کی طرح چہرے پر ڈال لیتے ہیں تاکہ سردی سے محفوظ رہ سکیں۔
یہ اکیلا رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ اپنے اردگرد دوسرے برفانی چیتوں کا آنا ناپسند کرتے ہیں اور اپنے علاقے کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ اچھے شکاری ہیں اور گوشت کھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ گھریلو جانوروں کا بھی شکار کرتے ہیں۔ یہ اپنے سے چار گنا وزنی جانور کا شکار بھی کر سکتے ہیں جن میں مارخور، گھوڑا اور اونٹ شامل ہیں۔ چھوٹے پرندے بھی ان کا شکار بنتے رہتے ہیں۔ حیران کن طور پر یہ ان علاقوں میں اگنے والی گھاس اور سبزیاں بھی کھا لیتے ہیں۔ پیدائش کے وقت برفانی چیتے کے بچے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔

ان کی آنکھیں چند دنوں کے بعد کھلتی ہیں۔ 18 سے 22 ماہ تک بچے اپنی ماں کے ساتھ رہتے ہیں اور اس کے بعد آزادانہ زندگی بسر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ برفانی چیتا دو سے تین سال کی عمر میں سن بلوغت کو پہنچتا ہے۔ ان کی عمر 15 سے 18 برس ہوتی ہے۔ برفانی چیتے کا شمار دنیا میں جانوروں کی تیزی سے ختم ہوتی نسلوں میں ہوتا ہے۔ شکار اور بے جا انسانی مداخلت کی وجہ سے برفانی چیتا نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اندازے ایک مطابق پاکستان میں برفانی چیتے کی تعداد تیزی سے کم ہوئی ہے اور اب یہ 200 کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔ اس کمی کی مختلف وجوہ ہیں۔ جس میں انسانی آبادی میں اضافہ سب سے بڑی وجہ ہے ۔ جن علاقوں میں یہ رہتے ہیں وہاں قیام پاکستان سے اب تک آبادی کم و بیش چار گنا بڑھی ہے۔

اس اضافے سے وہ علاقہ کم ہو گیا ہے جس میں برفانی چیتے آزادانہ گھومتے اور شکار کرتے تھے۔ دوسری وجہ ان جانوروں کا انسانوں کے ہاتھوں شکار کے سبب کم ہونا ہے جو برفانی چیتے کی خوراک بنتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق قیام پاکستان سے اب تک جنگلی بکریوں کی آبادی 50 فیصد کم ہوئی ہے۔ یہ بکریاں ان چیتوں کی خوراک ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں گلہ بانی کرنے والوں کو اکثرشکایت رہتی ہے کہ برفانی چیتا ان کی بھیڑ بکریوں کا شکار کرتا ہے۔ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے یا بدلہ لینے کے لیے چیتے کا شکار بھی کیا جاتا ہے۔ جن ممالک میں یہ چیتا پایا جاتا ہے ان کی تعداد 12 ہے۔ چند سال قبل ان ممالک نے ایک معاہدہ کیا جسے بشکک ڈیکلیئریشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس میں اتفاق کیا برفانی چیتا قدرت کا انمول تحفہ، ہماری پہچان اور پہاڑی علاقوں میں ماحولیاتی توازن کے لیے اہم ہے۔ اس موقع پر برفانی چیتے کی نسل کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھانے کا عہد کیا گیا۔ اس نایاب جانور کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے 2015ء کو برفانی چیتے کا بین الاقوامی سال قرار دیا گیا ۔ ملک میں ان کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ جانور ناپید ہوجائے۔ پاکستان میں اس جانور کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن یہ ناکافی ہیں۔ اس حوالے سے حکومت کے مؤثر اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی پھیلانے کی بھی ضرورت ہے۔

رضوان مسعود

No comments:

Powered by Blogger.