Header Ads

Breaking News
recent

فیس بک پر ان کاموں سے گریز کریں

فیس بک بہت مقبول ہے اور ایسا بلاوجہ نہیں۔ ایک دوسرے کو جاننے اور نئے لوگوں سے ملنے کا جذبہ اور شوق کم و بیش ہر فرد میں ہوتا ہے۔ فیس بک اس کی تکمیل کا ایک ذریعہ بن چکی ہے۔ کون نہیں چاہے گا کہ خوب سے خوب تر نظر آئے لیکن چند کام ایسے ہیں جو ناسمجھی میں کر لیے جاتے ہیں مگر جنہیں دوسرے ناپسند کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک حد سے زیادہ تصاویر شیئر کرنا ہے۔ کچھ لوگوں کی عادت بن جاتی ہے کہ وہ اپنی، اپنے کپڑوں اور ساتھیوں وغیرہ کی ایک کے بعد دوسری تصویر شیئر کرتے رہتے ہیں۔ اگر خاندان کے افراد یا دوستوں کی تصاویر زیادہ تعداد میں شیئر کی جائیں گی تو انہیں برا بھی لگ سکتا ہے۔ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ان کی تصاویر سرعام دیکھی جائیں۔ بعض دوست یا خاندان کے افراد اپنی مرضی کی تصاویر ہی شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ 

فیس بک پر بہت زیادہ فرینڈز بنانا بھی اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ زیادہ تر ان افراد کو پسند کیا جاتا ہے جو سوچ سمجھ کر فرینڈز کا انتخاب کرتے ہیں۔ جن کے بہت زیادہ فیس بک فرینڈز ہوں ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فیس بک پر ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں یا انہیں توجہ حاصل کرنے کا جنون ہے۔

 فیس بک پر انتہائی نجی معاملات کو بیان کرنے والوں یا ان پر بحث کرنے والوں کو اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ عام زندگی میں بھی لاپرواہ ہوں گے۔ اسی طرح دوسروں کے نجی معاملات پر گفتگو بھی غیر اخلاقی اور نامناسب خیال کی جاتی ہے۔ دوسروں کی ٹوہ لگانا اور بار بار سوال کرنا بھی ناموزوں ہوتا ہے۔ ایسا کرنے والوں کے بارے میں اچھی رائے قائم نہیں ہوتی۔

فیس بک پر بہت قریب سے لی گئی تصویر کو پروفائل پکچر کے طور پر نہیں لگانا چاہیے۔ یہ عام طور پر بدنما لگتی ہے۔ اسی طرح ہر مرتبہ سنجیدہ تصاویر شیئر کرنابھی اچھا نہیں ہوتا۔ سنجیدگی کے ساتھ ہنستی مسکراتی تصاویر بھی نظر آنی چاہئیں۔ فیس بک پر خودنمائی مت کریں۔ چاہیے آپ کو معلوم نہ ہو لیکن دل ہی دل میں آپ کے فرینڈز جان لیں گے کہ آپ ایسا کر رہے گے۔ اسی طرح خود کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ بعض افراد جب بھی کسی مہنگے ہوٹل، ایئرپورٹ یا اچھے ریسٹورنٹ میں جاتے ہیں اپنی تصویر یا مقام فیس بک پر ضرور شیئر کرتے ہیں۔ یہ خودنمائی دوسروں کو آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے۔  

No comments:

Powered by Blogger.