Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان میری ٹائم میوزیم

پاکستان میری ٹائم میوزیم کا افتتاح 27مارچ 1997ء کو کیا گیا تھا۔ اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اس کے احاطے میں انتظامیہ کے دفاتر کے ساتھ ساتھ مختلف گیلریاں بنائی گئی ہیں۔ گیلریوں کے فرش ، دیواروں اور ستونوں پر شیشم کی لکڑی سے کام کیا گیا ہے۔’’ میرین ہسٹری گیلری‘‘ میں محمد بن قاسم کا مجسمہ بنا کر اس پر لوہے کی زنجیروں سے بنی ہوئی زرہ بکتر پہنائی گئی ہے قریبی بنے ہوئے شیشے کے شیلف میں ڈھال رکھی ہوئی ہے، یہ دونوں قیمتی تاریخی اشیاء اور ماڑی کی بندرگاہ کی کھدائی کے دوران ملی تھیں۔ ان کی ساخت کو دیکھتے ہوئے قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں قیمتی اشیاء محمد بن قاسم کے دور کی ہیں۔

گیلری میں موہنجوداڑو کے تجارتی راستوں، محمد بن قاسم کی فوج کے دیبل پر حملے ، مسلمانوں کے قدیم بحری سازو سامان اور نقشوں کی پینٹنگز آویزاں کی گئی ہیں ۔’’نیول گیلری‘‘ میں 1965ء کی جنگ کے دوران بحریہ کی کامیابیوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ یہاں بحریہ کے سازو سامان کا ڈسپلے کیا گیا ہے ۔ ’’دوار کا آپریشن پورٹس اینڈ ہاربر گیلری ‘‘میں پاکستان کی مختلف بندرگاہوں اور منوڑہ فورٹ قاسم کی پینٹنگز آویزاں کی گئی ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ کا ماڈل بھی بنایا گیا ہے۔ ایک گیلری میں لکڑی کی پرانی طرز کی بنی ہوئی بارودی سرنگ کے خول میں کمپیوٹر ٹچ سسٹم کے ذریعہ پاک بحریہ اور میوزیم کے اوپن ایریا میں رکھی گئی چیزیں دکھائی جاتی ہیں۔ جن بچوں کو کمپیوٹر استعمال کرنا نہیں آتا وہ کمپیوٹر کی اسکرین پر انگلی رکھیں تو پوری اسکرین پر میوزیم کے کھلے علاقے میں رکھی گئی اشیاء کی فہرست آ جاتی ہے ۔
اس فہرست میں جو چیز دیکھنا چاہیں اس پر انگلی رکھنے سے اسکرین پر وہی چیز سامنے آ جاتی ہے۔ دوسرے کمپیوٹر سے نیوی کی تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ ایک لابی میں وہ ڈنر سیٹ بھی محفوظ کیا گیا ہے جس میں حضرت قائد اعظمؒ کو پاک بحریہ کے پہلے دور کے موقع پر کھانا پیش کیا گیا تھا، دوسرے منزل کے داخلی راستے کے دائیں جانب دیوار میں ’’ شہدا آف پاکستان نیوی‘‘ کے عنوان سے ان تمام شہدا کے نام دیئے گئے ہیں جنہوں نے وطن عزیز کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ’’ نیول چیف گیلری ‘‘ میں بحریہ کے تمام ریٹائر ہونے والے سربراہوں کے پورٹریٹ ، یونیفام اور زیر استعمال اشیاء محفوظ کر کے رکھی گئی ہیں ۔’’میرسن لائف گیلری ‘‘ فائبر سے بنائی گئی ہے، اس وسیع گیلری میں زیر آب دنیا کے مختلف حسین قدرتی مناظر دکھائے گئے ہیں۔ 

پہلی منزل پر ’’ بوٹ گیلری‘‘ میں ایک قدیمی نامکمل کشتی رکھی گئی ہے۔ عمارت میں ساٹھ سیٹوں پر مشتمل ایک ائیرکنڈیشنڈ آڈٹیوریم بھی بنایا گیا ہے جہاں سرکاری وفود کو بریفنگ دینے کے علاوہ دستاویزی فلموں کی نمائش بھی کی جاتی ہے۔ عمارت میں موجود لابرئیری میں تقریباً ایک ہزار کتب کا ذخیرہ موجود ہے۔ پاکستان میری ٹائم میوزیم ’’ تقریباً 22ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا ہے۔ میوزیم کے داخلی گیٹ کے بالکل سامنے ایک آہنی مچھلی کا ماڈل بنایا گیا ہے۔ اس کے احاطے میں ایک بڑی جھیل بنا کر یہاں سمندری ماحول بنانے کی کوشش کی گئی ہے بارش کا پانی جھیل میں جانے سے روکنے کے لیے جھیل کے کنارے پتھروں کی دیوار بنائی گئی ہے اس جھیل میں ایک مائن سوئیپر اور ایک مچڈ ( چھوٹی آبدوز) رکھی ہوئی ہے۔

مائن سوئیپر کا نچلا حصہ لکڑی کا ہے یہ بحری جہاز سمندر میں دشمن کی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام کرتا ہے۔ میوزیم میں اس لائٹ ہاؤس کا ایک ماڈل بنایا گیا ہے جس میں اوپر جانے کے لیے زینہ موجود ہے لائٹ ہاوس سے میوزیم کا دلکش نظارہ کیا جا سکتا ہے ان پر کشش اہم چیزوں کے علاوہ کھلے علاقے میں پی این ایس ہاربر کا پرانا ماڈل بوفرگسن ، مارک 7 اے ( توپ) ڈیتھ چارج 5-38 انچ مارک 38 ( توپ) 21 انچ تار پیڈو مارک 20 ایم ایم گن ، میزائل لانچر ، مارٹر مارک 10 سکوڈ ماونٹنگ ، سمیت معلوم کرنے کا آلہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کنسول، سمت معلوم کرنے کی کیبنٹ ، ٹارگٹ ایکوریشن یونٹ     ( ریڈار کا حصہ) مارک 4556 انچ ، رینچ فانڈر ، شنگین ، ویبلے ریوالور مارک 6 کولٹ 38، رلوایور نمبر 2 مارک اور ریوالور ، 32 انچ دھانے کا ریوالور وغیرہ موجود ہیں یہاں پاک بحریہ کی وہ میت گاڑی بھی رکھی گئی ہے جس میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا جنازہ گورنر ہاؤس کراچی سے قائد کی آخری آرام گاہ تک لے جایا گیا۔ بعد میں لیاقت علی خانؒ اور دیگر اکابرین کی میتیں لے جانے کے لیے بھی یہی میت گاڑی استعمال کی گئی ۔

شیخ نوید اسلم
(کتاب’’پاکستان کے آثارِ قدیمہ‘‘سے منقبس)
 

No comments:

Powered by Blogger.