Monday, January 2, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

گوادر کا تاریخی پس منظر

گوادر، کراچی سے تین سو میل کے فاصلے پر ایران کی سرحد کے قریب بلوچستان کا ایک ایسا ساحلی قصبہ ہے جس میں فطری طور پر گہرے پانی کی قدرتی بندرگاہ بننے کی گنجائش پائی جاتی ہے لیکن ایک ایسے دور افتادہ مقام پر واقع ہونے کے باعث جس کا پانی ملک کے ساتھ ریل اور سڑک کے رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں اپنی فطری صلاحیت کے باوجود اب تک گوادر کو محض مقامی سطح پر ماہی گیری کی بندرگاہ کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان میں ساحل مکران پر واقع گوادر، پاکستان کا نقشے پر کراچی سے بہت آگے ایرانی سرحد کے قریب واقع ایک نہایت پسماندہ شہر ہے شہر کے اردگرد کا علاقہ گوادر کا ضلع کہلاتا ہے اس ضلع میں تین قصبے ہیں گوادر، پسنی اور مرا۔

گوادر کا قصبہ 1958ء تک چھوٹی سی ہمسایہ خلیجی ریاست مسقط کے قبضہ میں تھا۔ مسقط جس کا نام سلطنت العمان ہے اس کے حکمران سلطان السعید ( موجودہ سلطان کے والد) نے اپنی معاشی پریشانیوں کے باعث گوادر کو بھارت کے ہاتھ فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا۔ حکومت پاکستان کو بمبئی میں ان کے میزبان مسلمان تاجروں کی وساطت سے اس سودے کے بارے میں علم ہوا تو پاکستان کی اُس وقت کی حکومت نے جس کے وزیر اعظم فیروز خان نون تھے کسی تساہل سے کام لیے بغیر فوری طور پر بھارت سے زیادہ قیمت ادا کرکے گوادر کو خرید لیا اس طرح 1958ء میں گوادر پاکستان کا حصہ بنا گوادر کی فروخت کے وقت مسقط اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان یہ طے پایا کہ گوادر کے باشندوں کو بیک وقت دونوں ممالک کی شہریت حاصل ہوگئی البتہ 1985ء کے بعد پیدا ہونے والے صرف پاکستان کے شہری تصور ہوں گے.
اس معاہدے کے تحت آج بھی سلطنت اومان میں گوادر کے باشندوں کو شہری حقوق حاصل ہیں ان کی ایک کثیر تعداد سلطنت اومان کی فوج اور دیگر محکموں میں ملازم ہے اور بہت سے بلوچ باشندے اومان میں کاروبار بھی کرتے ہیں جس طرح پاک افغان سرحد کے دونوں طرف بسنے والے قبائل میں سماجی، ثقافتی کاروباری اور خاندانی رشتے ہیں بالکل اس طرح گوادر کے بلوچوں اور سلطنت اومان کے بلوچوں میں قدیم اور گہرے خاندانی سیاسی، سماجی، اور تجارتی رشتے پائے جاتے ہیں۔ نصیر خان نوری حکمران قلات نے مسقط کے شہزادے سید سلطان کو گذر اوقات کے لیے حوالے کیا تھا تا ہم بعد میں مسقط کے حکمرانوں نے اسے اپنی حکومت کا حصہ بنا لیا 1822-23 میں خان قلات ناصر خان مرحوم نے اپنی فوج کی مدد سے گوادر پر قبضہ کر نے کی ناکام کوشش کی اس کی بڑی وجہ گوادر کے گورنر نے خان قلات کے کمانڈروں کو لالچ دے کر خرید لیا تھا۔

1957ء میں پاکستانی حکومت نے اومان سے گوادر پونے تین کروڑ روپے باقاعدہ معاہدے کے تحت واپس خریدا کیوں کہ خان آف قلات کے آباؤ اجداد نے تحفہ میں یہ اومان کے شہزادے کو دیا تھا گوادر اس علاقے سے فاصلاتی طور پر بھی نہایت قریب ہے بلکہ اومان اور گوادر کے درمیان تاریخی روابط بھی استوار ہیں 1957ء سے قبل مسقط کی طرح گوادر بھی پسماندہ علاقہ رہا یہاں پر سلطان نے کسی قسم کی سماجی ترقی لانے کی کوشش نہیں کی تاہم گوادر میں فوجی ملازمتوں کے دروازے کھولے گئے۔ گوادر کی کل آباد ی تقریباً دو لاکھ کے قریب ہے اور مقامی لوگوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری ہے سارا ضلع ساحل سمندر پر واقع ہے اس لیے یہاں 3400 افراد ماہی گیری کا پیشہ اختیار کیے ہوئے ہیں غربت کی وجہ سے وہ پرانی کشتیوں اور جالوں کے ذریعے مچھلیاں پکڑتے ہیں ساحلی علاقے کے قریب سمندر میں ٹیونا مچھلی عام ہے جس کی مغربی دنیا میں بڑی زبردست مانگ ہے ماہی گیر ناخواندہ ہونے کی وجہ سے سے مچھلی کو کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کرتے ہیں یہ صوتحال 1958ء سے اب تک ویسی کی ویسی ہے۔

بلوچستان میں 35 مختلف رنگ و نسل کی مچھلیاں جن کا وزن ایک لاکھ چودہ میٹرک ٹن اور جو 910 ملین روپے کی مالیت کی ہوتی ہیں کو روایتی طریقوں سے پکڑا جاتا ہے جن میں ساٹھ ملین روپے کی مالیت کی دس ہزار ٹن ٹیونا مچھلی ہوتی ہے خشک کرنے کے بعد ٹیونا مچھلی کو نہایت ہی کم قیمت پر سری لنکا کو دو سے 3 روپے فی کلو گرام پر بیچ دیا جاتا ہے جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی قیمت 15 سے 20 ڈالر فی کلو ہوتی ہے۔ گوادر کے ساحل کا کل رقبہ 130 ایکڑ ہے گوادر کا ساحل 21 ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق پاکستان کی شہ رگ بن چکا ہے جو ملک و قوم اور سمندری وسائل کے حوالے سے بہرہ ور ہو گا یہ علاقہ سمندری وسائل سے مالا مال ہے یہاں بندرگاہ کو ترقی دے کر خام سمندری وسائل کو استغمال کرکے کثیر زر مبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے.

ٹیونا مچھلی کثیر تعداد میں پائی جاتی ہے اس کا نرخ عالمی منڈی میں بہت زوروں پر ہے اس لیے ضروری ہے کہ مچھلی کو پکڑنے کی جدید سہولتوں میں اضافہ ہو جس سے مچھلی کو محفوظ رکھا جا سکے اور بہتر قیمت پر فروخت کی جاسکے۔ دوم یہ کہ ہر قسم کی شورش سے پاک اور وسیع علاقہ ہے جہاں لیبر بھی سستی حاصل ہوتی ہے یہاں کے سمندری راستے بھی جہاز رانی کے لیے بے مثال ہیں روس کی وسط ایشیائی ریاستیں اور افغانستان جبکہ دوسرے طرف متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقوں کے راستے میں گوادر جو کراچی سے قریباً 265 میل دور ہے اور سب سے خاص بات یہ کہ گوادر کی بندرگاہ خلیج فارس کے عین دہانے پر واقع ہے اور وسطی ایشیاء سے گوادر تک زمینی فاصلہ محض 500 کلومیٹر ہے وسطی ایشیائی نو آزاد مسلم ریاستوں کی باقی دنیا کے ساتھ تجارتی روابط موزوں ترین ذریعہ گواردر کی بندرگاہ ہے اگر دفاعی اعتبار سے سی پورٹ بنایا جائے تو کراچی کی نسبت زیادہ اہم ثابت ہو گا دنیا بھر کے سمندری راستوں کے لیے ایک آئیڈیل بندرگاہ بن سکتی ہے۔

اب جب سی پیک کا باقاعدہ افتتاح ہو چکا، تو اس خواب کی تکمیل ہو سکتی ہے۔ بلوچستان کے ساحلی علاقے میں آٹھ قصبے ہیں جن میں 34 مختلف آبادیوں میں تین لاکھ سے زائد افراد آباد ہیں ان میں سے تقریباً 3400 افراد مچھلی کے کاروبار سے منسلک ہیں مچھلی کی پیداوار میں بلوچستان کا حصہ 23 فی صد ہے جس میں گوادر کا حصہ 34 فی صد ہے گوادر بندرگاہ کی پیداوار34000 میٹرک ٹن ہے جس کی مالیت 250 ملین روپے ہے۔ اس کے مقابلے میں پسنی، ہاربر کی آمدنی 220ملین روپے ہے اس علاقے میں مچھلیاں پکڑنے کے آٹھ مقامات ہیں جن میں پسنی، گوادر، جیوانی، اوڑمارا، گڈانی، پشوکان اور سونمیانی شامل ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ کو بلجیئن کمپنی نے 1610 ملین روپے کی لاگت سے تین سال میں مکمل کر لیا تھا اس کے لیے مجموعی طور پر 604 ملین روپے کا قرضہ لیا گیا تھا جس میں بلجیم کے 221 ملین اور کنشوریم کے 383 ملین روپے بھی شامل ہیں۔ قرضہ واپس کرنے کی مدت 13 سال ہے گوادر کی بندرگاہ 1700 میٹر لمبی 60 فٹ چوڑی اور اس کی گہرائی 3.5 میٹر ہے۔

شیخ نوید اسلم

(پاکستان کی سیر گاہیں)
 

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :