Saturday, January 14, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

پاکستان میں مردم شماری کیوں ضروری ہے؟

کسی بھی ملک کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے کہ پالیسی ساز اداروں کو اس ملک کی صحیح آبادی کا علم ہو۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ریاست کے متعلقہ ادارے اس بات کے آئینی طور پر پابند ہیں کہ ہر دس سال میں ایک بارملک بھر میں مردم شماری کرائیں۔ ملک میں شرح تعلیم ، بیروزگاری کی شرح، مردوں، خواتین اور بچوں کی تعداد کتنی ہے، یہ سب مردم شماری سے ہی معلوم ہوتا ہے۔ آبادی کی بنیاد پر ہی ملک کے اندر صوبوں اور وفاق کا بجٹ تیار کیا جاتا ہے۔ صحیح معنوں میں آبادی معلوم ہونے کے بعد اداروں کی تشکیل اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے وطنِ عزیز میں ہر اس عمل کے خلاف سیاسی جماعتیں صف آرا ہوتی ہیں جس سے ملک کو فائدہ پہنچتا ہو۔ اپنے چھوٹے چھوٹے گروہی، سیاسی اور ذاتی مفاد کی خاطر یہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ احتجاج اور بائیکاٹ کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتیں۔

دوسری جانب یہی جماعتیں اس بات پراحتجاج نہیں کرتیں کہ گزشتہ 19 سال سے ملک میں مردم شماری نہیں ہوئی ہے۔ کیوں کہ ان سیاسی شعبدہ بازوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں صحیح مردم شماری سے ان حلقوں میں تبدیلی ممکن ہے اور ان کا سیاسی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ الیکشن ہوں یا مردم شماری ہر اس عمل کے خلاف ان سیاست دانوں نے ہمیشہ تنازع ضرور کھڑا کیا۔ وطنِ عزیز کو ستر سال ہوئے مگراب تک صرف پانچ بار مردم شماری ہوئی ہے۔ وہ بھی بروقت نہیں۔ ملک میں پہلی بار مردم شماری 1951، دوسری دس سال بعد یعنی 1961 جب کہ 1971 میں ملک میں ایک جنگ دشمن کے خلاف لڑی جا رہی تھی، جس کے باعث مردم شماری 1972 میں ممکن ہو ئی۔ چوتھی مردم شماری سنہ 1991 اور آخری بار ملک میں مردم شماری 1998 میں کرائی گئی۔

غلام یاسین بزنجو



KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :